حیات قدسی

by Other Authors

Page 21 of 688

حیات قدسی — Page 21

۲۱ مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے دلائل سنانے کی کوشش کی لیکن مولوی شیخ احمد اور ان کے ہمراہیوں نے میرے دلائل کو سننے کے بغیر ہی مجھے کا فرٹھیرا دیا اور یہ کہتے ہوئے کہ اس لڑکے نے ایک ایسے خاندان کو بٹہ لگایا ہے جس میں پشتہا پشت سے ولی پیدا ہوتے رہے ہیں اور جس کی بعض خواتین بھی صاحب کرامات و کشوف گذری ہیں تمام لوگوں کا میرے ساتھ مقاطعہ کر دیا۔اس موقع پر میرے بڑے چچا حافظ برخوردار صاحب کے لڑکے حافظ غلام حسین جو بڑے دبدبہ کے آدمی تھے، کھڑے ہوئے اور میری حمایت کرتے ہوئے ان مولویوں اور ذیلداروں کو خوب ڈانٹا۔لوگوں نے جب ان کی خاندانی عصبیت کو دیکھا تو خیال کیا کہ اب یہاں ضرور کوئی فساد ہو جائے گا اس لئے منتشر ہو کر ہمارے گاؤں سے چلے گئے۔جب مولوی شیخ احمد میرے دلائل کو سننے کے بغیر ہی اپنے گاؤں چلا گیا تو میں نے اسے ایک عربی خط لکھا جس میں سید عبد القادر صاحب جیلانی علیہ الرحمۃ۔بایزید بسطامی علیہ الرحمۃ محی الدین صاحب ابن عربی علیہ الرحمۃ اور جنید صاحب بغدادی علیہ الرحمۃ وغیر ہم بزرگوں کے مخالفین کے فتاولی تکفیر کی مثال دیکر سمجھایا کہ تم نے ہمارے معاملہ میں بھی یقینا انہی مخالفین کی طرح ٹھوکر کھائی ہے۔اس کے جواب میں اس نے دو شعر فارسی کے لکھے اور پھر خاموش ہو گیا وہ اشعار یہ ہیں ؎ به بزم غیر نکو نامی تو رفت ناموس صد قبیلہ بیک خامی تو رفت شہر ہا حکایت بدنامی تو رفت رفتی اکنوں اگر فرشتہ بگوئیم تا چه سود در مولوی غلام رسول جوان صالح کراماتی اس فتویٰ تکفیر کے بعد مجھے لا الہ الا اللہ کی خالص توحید کا وہ سبق جو ہزارہا مجاہدات اور کا ریاضتوں سے حاصل نہیں ہو سکتا تھا ان علماء کی آشوب کاری اور رشتہ داروں کی بے اعتنائی نے پڑھا دیا اور وہ خدا جوصدیوں سے عنقا اور ہما کی طرح لوگوں کے وہم وگمان میں تھا سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد نبوت کے توسط سے اپنی یقینی تجلیات کے ساتھ مجھے ذرۂ حقیر پر ظاہر ہوا۔چنانچہ اس ابتدائی زمانہ میں جبکہ یہ علماء سوء گاؤں گاؤں میری کم علمی اور کفر کا چرچا کر رہے تھے ، مجھے میرے خدا نے الہام کے ذریعہ سے یہ بشارت دی۔