حیات قدسی

by Other Authors

Page 23 of 688

حیات قدسی — Page 23

۲۳ چاہیئے۔میں نے جب یہ واقعہ اور محترم والد صاحب کا فرمان سنا تو وضو کر کے نماز شروع کر دی اور اپنے مولا کریم کے حضور عرض کیا کہ اے میرے مولا کریم کیا یہ لوگ مجھے تیرے پیارے مسیح کی تبلیغ سے روک دیں گے اور کیا میں اس طرح تبلیغ کرنے سے محروم رہوں گا۔یہ دعا میں بڑے اضطراب اور قلق سے مانگ رہا تھا کہ مجھے جائے نماز پر ہی غنودگی سی محسوس ہوئی اور میں سو گیا۔سونے کے ساتھ ہی میرا غریب نواز خدا مجھ سے ہمکلام ہوا اور نہایت رافت ورحمت سے فرمانے لگا۔” وہ کون ہے جو تجھے تبلیغ سے روکنے والا ہے اللہ بخش نمبردار کو میں آج سے گیارہویں دن قبر میں ڈال دوں گا۔صبح میں ناشتہ کرتے ہی موضع گڈ ہو پہنچا اور جاتے ہی اللہ بخش نمبر دار کا پتہ پوچھا۔لوگوں نے کہا کیا بات ہے۔میں نے کہا اس کے لئے میں ایک الہی پیغام لایا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اللہ بخش آج سے گیارہویں دن قبر میں ڈالا جائے گا۔کہنے لگے وہ تو موضع لالہ چک جو گجرات سے مشرق کی طرف چند کوس کے فاصلہ پر ایک گاؤں ہے وہاں چلا گیا ہے۔میں نے کہا کہ پھر تم لوگ گواہ رہنا کہ وہ گیارہویں دن قبر میں ڈال دیا جائے گا اور کوئی نہیں جو اس خدائی تقدیر کو ٹال سکے۔میرا یہ پیغام سنتے ہی اہل محفل پر ایک سناٹا سا چھا گیا۔اب وہ تقدیر مبرم اس طرح ظہور میں آئی کہ چوہدری اللہ بخش ذات الجنب اور خونی اسہالوں سے لالہ چک میں بیمار ہو گیا۔مرض چند دنوں میں ہی اتنا بڑھا کہ اس کے رشتہ دار اسے لالہ چک سے اُٹھا کر گجرات کے ہسپتال میں لے گئے اور وہاں وہ ٹھیک گیارہویں دن اس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا اور اسے اپنے وطن موضع گڈ ہو کا قبرستان بھی نصیب نہ ہوا۔فاعتبروا یا اولی الابصار۔اس پیشگوئی کی اطلاع چونکہ موضع گڈ ہو موضع سعد اللہ پورا ور بعض دیگر دیہات کے آدمیوں کو پہلے سے پہنچا دی گئی تھی اس کے عین وقت پر پورا ہونے سے اکثر لوگوں پر دہشت سی طاری ہو گئی۔وہ چند پنجابی اشعار جو میں نے مسجد کے برآمدہ میں لکھے تھے مندرجہ ذیل ہیں۔الف- ایہہ جہان مکان فانی فانی نال محبتاں لائیے نہ سرتے بولدی سٹ پئی کوچ والی فکرموت دامنوں چکائیے نہ دنیا خواب خیال مثال اینویں غافل ہو کے عمر گنوائیے نہ نام رب دا دلاندی کیمیا اے یاد رب دی دلوں بھلائیے نہ