حیات قدسی

by Other Authors

Page 350 of 688

حیات قدسی — Page 350

۳۵۰ مولوی محمد عبد اللہ صاحب مولوی فاضل اور مولوی عبد الرحیم صاحب بی اے قادیان میں تعلیم کے لئے بھجوائے۔جو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت مخلص خادم سلسلہ ہیں۔اول الذکر سلسلہ کے کامیاب مبلغ ہیں اور علاقہ مالا بار میں ان کو بہت مقبولیت حاصل۔ہے۔وہاں پر ایک اور مخلص کنجی احمد صاحب تھے جنہوں نے مسجد کے لئے ایک قطعہ زمین دیا۔اور مجھے مسجد کا سنگ بنیا درکھنے کے لئے کہا۔چنانچہ بعد دعا میں نے پینگا ڈی کی اس مسجد کی بنیا د رکھی۔پینگا ڈی میں کبھی کبھی میں ایک پہاڑی پر جا کر خلوت میں دعائیں کیا کرتا تھا۔ایک دن میں نے فرقتِ احباب میں اس پہاڑی پر ایک نظم بھی لکھی۔جس کے ہیں چھپیں اشعار تھے جن میں سے دوشعر اب بھی مجھے یاد ہیں۔اَخِلْتَ إِنَّكَ مِنْ شَوْقٍ عَلَاقُلَلا * تَبِيدُ نَفْسَكَ مِنْ هِجْرٍ عَتَاحِوَلَا لَقَدْ أَصَبْتَ فَإِنَّ الْهِجَرَوَاهِيَةٌ * وَعِلَّةٌ هِيَ فَاقَتْ أَذًى عِدَلَا شہر کنا نور میں پینگاڑی کے قصبہ میں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد کنانور کے احمدیوں نے درخواست کی کہ وہاں بڑی جماعت ہے اور بڑا شہر ہونے کی وجہ سے تبلیغ کے لئے میدان بھی زیادہ وسیع ہے۔اس لئے وہاں کچھ عرصہ قیام کیا جائے۔چنانچہ خاکسار اور عزیزم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کنا نور آ گئے۔وہاں پہنچ کر میں نے درس قرآن کریم کا سلسلہ شروع کر دیا جس میں بہت سے غیر احمدی بھی باقاعدہ شامل ہوتے۔درس اور تقریروں کے وقت وہاں کے ایک بہت ہی مخلص دوست عبد القادر کنجی صاحب جوار دو بھی جانتے تھے۔ہماری ترجمانی کر دیتے۔چنانچہ خدا کے فضل سے ان دونوں شہروں میں تبلیغی مساعی کے نتیجہ میں پچاس کے قریب افراد سلسلۂ حقہ میں داخل ہوئے۔مالا بار کے بعض حالات مالا بار میں عام طور پر لوگوں کی غذا چاول اور مچھلی ہے۔دھان کی فصل سال میں دو دفعہ ہوتی ہے اور بعض علاقوں میں آم کا پھل سال بھر رہتا ہے۔بعض پیڑ ایسے بھی ہیں کہ ایک طرف پھل تیار ہوتا ہے اور دوسری طرف مور لگ رہا ہوتا ہے۔وہاں آم کا پھل حجم میں بہت بڑا ہوتا ہے اور ریشہ دار