حیات قدسی — Page 349
۳۴۹ مکرم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی الحکم میں شائع فرما چکے ہیں۔سرزمین مالا بار میں ورود جب ہم پینگا ڈی کے قصبہ میں پہنچے تو میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک خنزیر ہے جو ہمارے آگے آگے مزاحمت کرتا ہوا ہمارے مقصد میں روک بننا چاہتا ہے۔یہ رویا غیر مبایعین کے فتنہ کے متعلق تھی۔جو مولوی محمد کنجی صاحب نے وہاں پر اٹھایا ہوا تھا۔مولوی محمد نجی صاحب حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کے زمانہ میں قادیان آئے۔اس کے بعد لاہور گئے اور مجھ سے ملے۔وہ اس وقت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت ہی عقیدت کا اظہار کیا کرتے تھے۔انہوں نے ایک دن رو کر مجھ سے کہا کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت نصیب نہیں ہوئی۔اس لئے حضور کے تبرکات میں سے ہی کچھ ان کو دے دیا جائے۔چنانچہ بڑے الحاح اور منت و سماجت سے انہوں نے مجھ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تبرکات جن میں ایک جائے نماز ، ریشمی رومال اور کچھ بال شامل تھے لے لئے۔اور اسی طرح ایک تین سو ساٹھ اشعار کا عربی قصیدہ جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور سنایا تھا انہوں نے مجھ سے لے لیا۔خلافت ثانیہ کے ابتدا میں مولوی محمد کنجی نے مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبایعین سے راہ ورسم بڑھائی۔اور مالا بار کے علاقہ میں غیر مبایعین کے خیالات پھیلانے کے لئے حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی کو لا ہور سے بلوایا ( حکیم صاحب موصوف اس وقت غیر مبایعین کے ساتھ تھے۔اب عرصہ سے خلافت حقہ سے وابستہ ہو چکے ہیں ) انہوں نے میرے ساتھ جمعیت حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی عرصہ تک سلسلہ بحث و مباحثہ جاری رکھا۔اس بحث سے ہماری جماعت کے دوستوں کو بہت فائدہ پہنچا۔اور ان کو مبایعین اور غیر مبایعین کے عقاید کے متعلق تفصیلی واقفیت ہوگئی۔پین گاڑی کے مخلصین پینگاڈی میں ایک عالم مولوی محی الدین صاحب تھے۔جنہوں نے اپنے دو لڑ کے