حیات قدسی

by Other Authors

Page 351 of 688

حیات قدسی — Page 351

۳۵۱ نہیں ہوتا۔گٹھلی چھوٹی ہوتی ہے اور بہت لذیذ ہوتا ہے۔عام طور پر لوگ اکٹھے مل کر کھانا کھاتے ہیں۔اور کھانے کے ساتھ گرم پانی استعمال کرتے ہیں۔چائے بہت کم پیتے ہیں۔البتہ کا فی کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔شادی کا طریق ہمارے علاقہ کے طریق سے مختلف ہے۔بجائے لڑکی کو بیاہ کر گھر لانے کے لڑکے کو بیاہ کر گھر لایا جاتا ہے۔خاندان کی وارث بھی عورتیں ہوتی ہیں۔بارش موسم گرما میں چھ چھ ماہ تک لگا تار ہوتی رہتی ہے۔لوگ عام طور پر مچھلی کا شکار کرتے ہیں۔اور مچھلی کا تیل نکال کر باہر بھجواتے ہیں۔کیلا ہاتھ ہاتھ لمبا ہوتا ہے۔اس کو بیسن لگا کر اور ناریل کے تیل میں تل کر کھاتے ہیں۔ناریل بھی اس علاقہ میں بکثرت پایا جاتا ہے۔لوگ عام طور پر خلیق ، ملنسار اور شریف الطبع ہیں۔کنانور میں تبلیغ کنانور میں علماء کی بہت بڑی تعدا د رہتی ہے۔اور عربی جاننے والے بھی بکثرت موجود ہیں۔کنانور میں اس وقت جو بڑے نواب تھے ، وہ بھی عربی کے فاضل تھے میں نے ان کی خدمت میں علاوہ تبلیغی خط کے ایک عربی قصیدہ بھی لکھ کر بھجوایا۔جسے پڑھ کر وہ بہت متاثر ہوئے اور ہمیں دعوتِ طعام پر مدعو کیا۔اسی دوران میں تین غیر احمدی علماء نواب صاحب کی ملاقات کے لئے گئے۔نواب صاحب نے برسبیل تذکرہ میرا عربی خط اور قصیدہ ان کو دکھایا۔وہ اس کو دیکھ کر بہت بگڑے اور نواب صاحب کو دھمکی دی کہ اگر آپ نے قادیانی علماء کو دعوت پر بلایا تو ہم تمام شہر میں آپ کے خلاف کفر کا فتویٰ نشر کریں گے اور آپ کے مقاطعہ پر تمام مسلمانوں کو آمادہ کریں گے۔یہ سن کر نواب صاحب ڈر گئے اور معذرت کے ساتھ اس دعوت نامہ کو جو ہماری طرف بھجوایا تھا، منسوخ کر دیا۔جب مجھے اس کا علم ہوا تو میں نے ان علماء کو چیلنج دیا کہ وہ میرے ساتھ تحریر یا تقریراً احقاق حق کے لئے مناظرہ کر لیں۔تاکہ معلوم ہو سکے کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون۔اور یہ بھی لکھا کہ نواب صاحب بھی عالم ہیں۔اگر پسند ہو تو ان کو ثالث مقرر کر لیا جائے۔میرے اس چیلنج کا تمام شہر کے علمی طبقہ میں خوب چرچا ہوا۔اور ان علماء کی جو چانگام سے آئے تھے۔مقابل پر نہ آنے کی وجہ سے بہت بدنامی ہوئی۔اور وہ کنا نور سے جلد ہی کسی اور جگہ چلے گئے۔