حیات قدسی

by Other Authors

Page 20 of 688

حیات قدسی — Page 20

صاحب کے ہمراہ قادیان سے واپس لوٹا تو مولوی صاحب موصوف اپنی ہمشیرہ سے ملنے کے لئے امرتسر اُتر گئے اور میں سیدھا لا ہور چلا آیا۔یہاں پہنچ کر مجھے عربی پڑھنے کا شوق پیدا ہوا اور میں مدرسہ رحیمیہ کی مولوی کلاس میں داخل ہو گیا۔ان دنوں مجھے ایک کتاب معرفتہ السلوک مل گئی جو میرے طبعی رجحان کے مطابق ہونے کی وجہ سے مجھے بہت پسند آئی اور اکثر میرے زیر مطالعہ رہتی۔جس کی وجہ سے مجھے اس اسکول کے عام طلباء صوفی کے نام سے پکارنے لگ گئے۔میری تعلیم پر ابھی کوئی چھ ماہ کا عرصہ گذرا ہوگا کہ ہمارا اسکول موسمی تعطیلات کی وجہ سے بند ہو گیا اور میں سیدھا اپنے وطن مالوف چلا آیا۔تبلیغ احمدیت اور فتویٰ تکفیر ! وطن مالوف موضع را جیکی پہنچتے ہی خدا وند کریم کی نوازش ازلی نے میرے اندر تبلیغ احمدیت کا ایسا بے پناہ جوش بھر دیا کہ میں شب و روز دیوانہ وار اپنوں اور بیگانوں کی محفل میں جاتا اور سلام و تسلیم کے بعد امام الزمان علیہ السلام کے آنے کی مبارکباد عرض کرتے ہوئے تبلیغ احمدیت شروع کر دیتا۔جب گردو نواح کے دیہات میں میری تبلیغ اور احمدی ہونے کا چرچا ہوا تو اکثر لوگ جو ہمارے خاندان کو پشتہا پشت سے ولیوں کا خاندان سمجھتے تھے مجھے اپنے خاندان کے لئے باعث ننگ خیال کرنے لگے اور میرے والد محترم اور میرے چچاؤں کی خدمت میں حاضر ہو کر میرے متعلق طعن و تشنیع شروع کر دی۔میرے خاندان کے بزرگوں نے جب ان لوگوں کی باتوں کو سنا اور میرے عقائد کو اپنی آبائی وجاہت اور دنیوی عزت کے منافی پایا تو مجھے خلوت و جلوت میں کوسنا شروع کر دیا۔آخر ہمارے ان بزرگوں اور دوسرے لوگوں کا یہ جذبہ تنافر یہاں تک پہنچا کہ ایک روز یہ لوگ مولوی شیخ احمد ساکن دھر یکاں تحصیل پھالیہ اور بعض دیگر علماء کو ہمارے گاؤں میں لے آئے۔یہاں پہنچتے ہی ان علماء نے مجھے سینکڑوں آدمیوں کے مجمع میں بلایا اور احمدیت سے تو بہ کرنے کے لئے کہا۔میری عمر اگر چہ اس وقت کوئی اٹھارہ انیس سال کے قریب ہو گی مگر اس روحانی جرات کی وجہ سے جو محبوب ایزدی نے مجھے مرحمت فرمائی تھی میں نے ان مولویوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور اس بھرے مجمع مجھے کی کی اور میں جہاں ہمارے علاقہ کے زمیندار اور نمبردار اور ذیلدار وغیرہ جمع تھے ان لوگوں کو سید نا حضرت