حیات قدسی — Page 344
۳۴۴ قادیانی تو نہیں۔میں نے عرض کیا کہ خدا کے فضل سے احمدی ہوں۔کئی مسلمان جو اس آیت کے متعلق آریوں کے ساتھ مناظرہ میں بھی میری تشریح کوسن چکے تھے کہنے لگے کہ آپ نے قرآن کریم کہاں سے پڑھا ہے میں نے کہا کہ فی زمانہ قر آنی علوم کا سر چشمہ حضرت مسیح قادیانی علیه السلام ہیں اور یہ علوم و فیوض مرکز قادیان سے حاصل ہوتے ہیں۔کانپور میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ مباحثہ ۱۰ را پریل ۱۹۱۹ ء کو اہل حدیث کی کانفرنس میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی اسلام اور قادیان کے موضوع پر تقریر تھی۔ہماری طرف سے ایک چٹھی مولوی ثناء اللہ صاحب کے نام اور ایک انجمن اہلحدیث کے سیکرٹری کے نام لکھی گئی کہ چونکہ تقریر میں سلسلہ احمدیہ پر اعتراضات متوقع ہیں۔اس لئے ہمیں بھی ان کے جوابات کے لئے وقت دیا جائے۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے صرف اتنا جواب دیا کہ اس کا تعلق مقامی انجمن کے سیکرٹری کے ساتھ ہے اور سیکرٹری صاحب نے جواب دیا کہ آپ آکر تقریر سنیں۔جواب کے لئے وقت دینے کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔چنانچہ ہم نے مناسب سمجھا کہ ایک دو دوست جلسہ سننے کے لئے چلے جائیں اور بعد میں ہماری طرف سے جلسہ کر کے اس تقریر کی تردید کر دی جائے۔چنانچہ مکرم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی بعض احباب کی معیت میں تقریر کے نوٹ لینے کے لئے چلے گئے۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے آخری فیصلہ کے اشتہار کے متعلق تقریر شروع کی اور جوش میں آکر کہا کہ کوئی ہے جو میرے اس اعتراض کا جواب پیش کر سکے۔پھر کہا کہ سننے میں آیا ہے کہ مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کانپور میں آئے ہوئے ہیں اور کل انہوں نے آریوں کے ساتھ مناظرہ بھی کیا ہے۔اگر وہ جلسہ میں موجود ہوں تو میں انہیں اپنے پیش کردہ اعتراض کے جواب کے لئے وقت دیتا ہوں۔اس کے جواب میں عزیز مکرم عرفانی صاحب نے کھڑے ہو کر کہا کہ مولوی صاحب اس وقت ج صاحب کی کوٹھی پر ہیں۔انہوں نے آپ کو رقعہ بھی لکھا تھا لیکن وقت نہ دیا گیا اس لئے انہوں نے