حیات قدسی

by Other Authors

Page 343 of 688

حیات قدسی — Page 343

۳۴۳ کہنا ہے۔مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روح حق آئے گا تو تمہیں تمام سچائی کی راہ دکھائے گا اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا۔لیکن جو کچھ وہ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا اور میرا جلال ظاہر کرے گا۔“ پس يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوح میں روح حق کا ہی ذکر ہے۔پادری صاحب نے یہ سن کر کہا کہ اس آیت میں تو صرف الروح کا ذکر ہے نہ کہ روح حق کا۔میں نے کہا کہ عربی زبان کے قواعد میں یہ بھی ہے کہ مضاف اور مضاف الیہ سے بعض دفعہ ایک کو حذف کر دینا جائز سمجھا جاتا ہے۔اور بصورت نکرہ بحالت حذف اسے معرف باللام کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔پادری صاحب نے کہا کہ یہاں پر اس حذف کے لئے کیا قرینہ ہے۔میں نے عرض کیا کہ کلام سابق میں قرینہ موجود ہے۔ماقبل کی عبارت میں قُلْ جَاءَ الْحَقُّ کا فقرہ ہے جس میں الحق کو روح الحق کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے اور روح کو حذف کر دیا گیا ہے۔پس اس فقرہ میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ روح حق جس کی پیشگوئی کی گئی تھی اور جس کے کے عیسائی منتظر تھے ، امر ربی سے آچکا ہے اور چونکہ انجیل کی تعلیم ناقص اور نامکمل ہے جیسا کہ خود مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں ' ' مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے مگر تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔لیکن جب وہ یعنی روح حق آئے گا تو تمہیں تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔اس لئے فرمایا وَمَا أوتِيتُمُ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلاً یعنی تمہارا علم جو تمہیں انجیل کے ذریعہ دیا گیا ہے بہت تھوڑا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے تمام سچائی کو پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔جیسے کہ آیات تِبَيَانًا لِكُلِّ شَئ اور مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتبِ مِنْ شَی وغیرہ سے ظاہر ہے۔پس اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ وہ روح حق جس کا وعدہ دیا گیا تھا۔وہ امر رب سے نازل ہو چکا ہے اور جو کچھ انجیل کی تعلیم میں کمی اور نقص تھا۔خواہ مخصوص القوم ہونے کے اعتبار سے یا مخصوص الزمان ہونے کے اعتبار سے وہ قرآن کریم کے ذریعہ سے اس نے دور کر دیا ہے جیسا کہ اس بات کا اعلان ان الفاظ میں کیا گیا۔کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ | نِعْمَتِي - 56 جب میں نے مذکورہ بالا مضمون کو شرح وبسط سے بیان کیا تو پادری صاحبان کہنے لگے کہ آپ