حیات قدسی

by Other Authors

Page 345 of 688

حیات قدسی — Page 345

۳۴۵ بغیر جواب کے موقع پانے کے آپ کی تقریر کو سننا پسند نہیں کیا۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا کہ جواب کے لئے ان کو کافی وقت دیا جائے گا۔وہ آئیں اور جواب دیں۔اس پر عزیز موصوف نے کہا کہ جج صاحب کی کوٹھی کافی دور ہے کچھ وقت لگے گا۔چنانچہ انہوں نے دس منٹ تک مہلت دی۔اتفاق سے اس دن ٹانگوں کی ہڑتال تھی لیکن خوش قسمتی سے عزیز موصوف کو ایک ٹانگہ پنڈال کے باہر ہی مل گیا۔اور میں اس میں بیٹھ کر فوراً جلسہ گاہ میں آ گیا۔صدر جلسه مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی تھے۔انہوں نے میرے پہنچتے ہی اعلان کیا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی تقریر آخری فیصلہ والے اشتہار کے متعلق تو آپ سامعین نے سن لی ہے۔اب مولوی غلام رسول صاحب احمدی کا جواب بھی سن لیں۔چنانچہ میں نے سٹیج پر کھڑے ہو کر پہلے تو مولوی ثناء اللہ صاحب کے فاتح قادیان کے ادعا کے متعلق اور پھر ان کی تقریر کے موضوع اسلام اور قادیان“ کے متعلق مختصر الفاظ میں ذکر کیا اور پھر اخبار اہلحدیث اور ” مرقع قادیانی وغیرہ کے حوالوں سے آخری فیصلہ کے اشتہار کے متعلق اچھی طرح وضاحت کی۔جس کے تفصیلاً ذکر کی اس جگہ گنجائش نہیں۔چونکہ میرے پاس اخبار اہلحدیث کے اصل پر چہ جات اور مرقع قادیانی وغیرہ موجود تھے۔اس لئے مولوی ثناء اللہ صاحب کو انکار کی جرات نہ ہو سکی۔اس وقت اللہ تعالیٰ کی توفیق سے میرا گلہ بہت صاف اور آواز بہت بلند تھی۔آخر میں صدر جلسہ نے ہر دو مناظروں اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔میں نے بھی شکریہ کے طور پر چند لفظ کہے اور آخر میں یہ بھی کہا کہ میں نے سنا ہے کہ میری عدم موجودگی میں جلسہ میں ہمارے سلسلہ کے خلاف کچھ کہا گیا ہے۔اگر کسی کو شک و شبہ ہو تو میں حضرت مرزا صاحب کے دعوئی اور دلائل کے متعلق ہر طرح سے وضاحت کرنے کے لئے تیار ہوں۔خواہ باقاعدہ مناظرہ کی صورت میں یا سوال و جواب کی صورت میں۔اس پر صدر جلسہ نے کہا کہ اب تو کا نفرنس ختم ہوگئی ہے اور جو ہونا تھا ہو چکا ہے۔جب میں سٹیج سے اترا تو تمیں چالیس کے قریب حنفی مسلمان جو وہابیوں کے سخت خلاف تھے۔میرے ارد گرد جمع ہو گئے۔اور پنڈال سے باہر نکل کر اظہار خوشنودی کے طور پر انہوں نے ہم سب احمد یوں کو دودھ پلایا۔