حیات قدسی — Page 342
۳۴۲ روح کے متعلق نیا انکشاف میں نے پادری صاحب سے دریافت کیا کہ اس آیت کے متعلق آپ کیا استفسار کرنا چاہتے ہیں۔کہنے لگے۔يَسْتَلُونَ میں جن سائلین کا ذکر ہے۔وہ کون لوگ ہیں اور روح سے کیا مراد ہے۔میں نے عرض کیا کہ قرآن کریم چونکہ ہر زمانہ کے لوگوں سے تعلق رکھتا ہے۔اس لئے اس وقت تو روح کے متعلق سوال کرنے والے پادری صاحبان ہی ہو سکتے ہیں۔پادری صاحب فرمانے لگے کہ پھر يَسْتَلُونَگ میں جو ”ک خطاب کا پایا جاتا ہے۔اس سے کون مراد ہو گا۔میں نے کہا کہ قرآن کریم کے نزول کے وقت تو خدا کا رسول تھا۔اور اب خدا کے رسول کی نمائندگی کرنے والا کوئی غلام رسول ہی ہوسکتا ہے۔پادری صاحب کہنے لگے کہ آپ غلام رسول ہیں۔میں نے عرض کیا کہ اگر چہ معناً بھی یہ خاکسار غلام رسول ہے۔لیکن حسن اتفاق سے میرا نام بھی غلام رسول ہے۔پادری صاحب ا پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے روح سے آپ کے نز دیک کون سی روح مراد ہے۔روح حق میں نے عرض کیا کہ وہی روح جسے انجیل یونتا میں روح حق کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ باب ۱۴ آیت ۱۷/ ۱۶ میں اس طرح مرقوم ہے:۔اور میں باپ سے درخواست کروں گا کہ وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے یعنی روح حق جسے دنیا حاصل نہیں کر سکتی۔کیوں کہ نہ اسے دیکھتی اور نہ جانتی ہے۔باب ۱۶ آیت ۷ سے ۱۲ تک یہ الفاظ ہیں :۔میں تم سے سچ کہتا ہوں میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے۔کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر میں جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا اور وہ آکر دنیا کو گناہ اور راست بازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا۔گناہ کے بارے میں اس لئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لائے راستبازی کے بارے میں اس لئے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں۔اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔عدالت کے بارے میں اس لئے کہ دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا گیا ہے مجھے تم سے اور بھی بہت سے باتیں