حیات قدسی — Page 333
۳۳۳ اس آیت میں قوم کی طرف سے جمع کے صیغہ میں دعا کا ذکر کیا گیا ہے نہ کہ انفرادی لحاظ سے۔ایسا وعدہ جو قوم سے کیا جاتا ہے۔وہ قوم کے لئے ضرور پورا ہوتا ہے۔گو بعض افراد کسی گناہ کی وجہ سے ایسے وعدہ کے ظہور میں آنے کے وقت اس کی برکات سے محروم بھی رہ جاتے ہیں۔میں نے جب مذکورہ بالا جواب دیا تو سب احباب بہت خوش ہوۓ۔فالحمد لِلهِ علی ذالک نز د عاشق رنج و غم حلوا بود خاکسار جب واقفین زندگی کی تعلیم کے لئے دوسرے اساتذہ کے ساتھ ڈلہوزی میں مقیم تھا تو ایک دن جناب نواب اکبر یار جنگ صاحب بہا در حج ہائیکورٹ حیدر آباد دکن نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بذریعہ عریضہ مثنوی کے مندرجہ ذیل شعر کا مطلب دریافت کیا۔نزد عاشق رنج و غم حلوا بود لیک حلوا بر خساں بلوا بود حضور نے نواب صاحب کا وہ عریضہ خاکسار کو بھجوا کر جواب کے لئے ارشاد فرمایا۔میں نے جواب لکھ کر حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔وہ جواب حضور نے نواب صاحب کو بھجوا دیا۔اس جواب کے مختلف پہلو تھے۔ان میں سے ایک پہلومختصر طور پر یہاں لکھا جاتا ہے۔رضا بالقضاء کا مقام بجز عشق الہی کے حاصل نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کا عبد اسی وقت اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر پر راضی ہوتا ہے جب اس کے قلب میں اپنے محبوب مولیٰ کی محبت کا شدید جذ بہ ہو۔اور وہ حسب مقولہ هر چه از دوست رسد نیکواست ہر مصیبت اور ابتلاء کو جو اس کے محبوب خدا کی طرف سے آئے۔اپنے نفس اور ذات کے لئے فائدہ بخش سمجھتے ہوئے اسے خوشی سے قبول کرے۔انہی معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے لَنَا عِندَ الْمَصَائِبِ يَا حَبِيبِيِّ رِضَاءً ثُمَّ ذَوْق وَارْتِيَاحٌ 6 یعنی اے میرے پیارے اور محبوب مولیٰ تیری طرف سے جو ابتلاء اور امتحانات وارد ہوتے