حیات قدسی — Page 334
۳۳۴ ہیں۔اور لوگ جن کو نا قابل برداشت شدائد خیال کر کے ان سے تکلیف محسوس کرتے ہیں ہمارے لئے وہ مصائب خوشی اور راحت کا باعث بنتے ہیں۔اور ہم اپنے اندر ان کے لئے ایک ذوق و شوق پاتے ہیں۔اس سے بھی بڑھ کر حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں:۔وَ اسْتَلُ رَبِّي أَن يَزِيدَ تَشَدُّدًا 47 یعنی قرب و وصال کے مدارج طے کرنے کے لئے میں تو بارگاہ قدس سے یہ چاہتا ہوں کہ یہ ابتلاءاور مصائب اور بھی زیادہ ہوں۔کیونکہ نفسانیت کی اصلاح انہی شدائد کی کثرت سے تعلق رکھتی ہے۔جس قدر نفسانیت سے انسان دور ہوتا جاتا ہے۔قرب کی راہیں اس پر کھلتی جاتی ہیں۔اسی لئے عبد سالک پر جوں جوں ابتلاء اور مصیبتیں زیادہ ہوتی جاتی ہیں۔وہ اتنا ہی زیادہ لذت اور سرور میں ترقی کرتا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں انبیاء کرام کو اشد البلاء قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے سب سے بڑے عاشق ہوتے ہیں اور اس کے راستے میں سب سے زیادہ مصائب برداشت کرتے ہیں۔اَللّهُمَّ صَلَّ عَلَى جَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ مالا بار اور کانپور میں مورخہ ۶ را پریل ۱۹۱۹ء کو سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا مجھے لاہور میں کوسیدنا ارشاد ملا کہ آپ مالا بار جانے کے لئے تیار ہو کر قادیان آ جائیں۔چنانچہ خاکسار قادیان حاضر ہو گیا۔رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک جنگل میں ہوں اور مجھے دور دور تک کانے ہی کانے نظر آتے ہیں۔وہاں ایک بول کا درخت ہے جو بہت اونچا ہے۔میں اس کے تنے پر بیٹھا ہوں۔اس وقت اچانک اس درخت کے جنوب میں ایک بہت بڑا شیر نظر آتا ہے۔اس شیر نے مجھے آواز دی۔کہ اومہدی میں پوؤں، یعنی اے مہدی کیا میں تجھ پر حملہ کروں۔میں اسے جواب میں کہتا ہوں ”اچھا تیری مرضی ، پھر دوبارہ اس نے وہی الفاظ کہے۔اور میں نے جواب دیا ” اچھا تیری مرضی اس کے بعد میں بیدار ہو گیا۔دوسرے دن ہمیں حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے سفر ما لا بار کے متعلق ضروری ہے