حیات قدسی — Page 332
۳۳۲ انصار اللہ میں شمولیت سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں خاکسار مجلس انصار اللہ میں شامل ہوا۔اس تعلق میں ایک خط میں نے سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ کی خدمت میں جو انصار اللہ کے صدر تھے لکھا۔حضور نے اس کے جواب میں جو مورخہ ۱۸ مارچ ۱۹۱۱ء کو مندرجہ ذیل خط تحریر فرمایا : - د مگر می مولوی صاحب۔السلام علیکم۔آپ کا کارڈ ملا۔جزاکم اللہ۔اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و مددگار ہو۔بعد از استخارہ مجھے اطلاع دیں۔آپ کا نام نمبروں میں شامل کر لیا جائے گا۔کام گو بہت بڑا ہے لیکن جس کی تحریک سے ہے وہ بھی بہت ہی بڑا ہے۔والسلام مرزا محمود احمد چنانچہ استخارہ کے بعد حضور نے مجھے مجلس انصاراللہ میں شامل فرمالیا۔فالحمد للہ علی ذالک مجلس انصاراللہ میں ایک علمی سوال سیدنا حضرت خلیفة المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کے دور خلافت کے آخری سال میں ایک دن مشورہ کے لئے انجمن انصار اللہ کی میٹنگ بلائی گئی۔جب میں پہنچا تو حضرت مولوی سرور شاہ صاحب حضرت میر محمد الحق صاحب، حضرت حافظ روشن علی صاحب ، حضرت پیر منظور محمد صاحب اور غالباً حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب حلالپوری اور بابو وزیر محمد صاحب وغیر ہم پہلے سے موجود تھے۔اور خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کا یہ سوال زیر غور تھا کہ اگر سید نا حضرت اقدس مسیح موعود نے قدرت ثانیہ کے ظہور کو اللہ تعالیٰ کی اہل سنت قرار دیا ہے تو پھر یہ کیوں تحریر فرمایا ہے کہ قدرت ثانیہ کے ظہور کے وعدہ کے پورا ہونے کے لئے سب مل کر دعا کریں۔میں نے عرض کیا کہ اس سوال کا جواب واضح طور پر قرآن کریم میں دیا گیا ہے۔اور وہ آیت رَبَّنَا وَ آتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيْمَة إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ میں ہے۔ان الفاظ میں کسی امر موعود کے متعلق جس کا خدا تعالیٰ کے رسولوں کے ذریعہ وعدہ دیا گیا ہے۔اس کے پورا ہونے کے لئے دعا سکھلائی گئی ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ وعدوں کو ضرور پورا کرتا ہے اور ان کے خلاف نہیں کرتا۔