حیات قدسی

by Other Authors

Page 327 of 688

حیات قدسی — Page 327

۳۲۷ اسی دوران میں ہماری طرف سے صحیح بخاری سے اصل حوالہ نکال لیا گیا تھا۔جو نہی شور مدہم پڑا، میں نے پہلے ان کے چیلنج کو حوالہ کے غلط ہونے کے متعلق دہرایا اور پھر صحیح بخاری سے جو مصر کی مطبوعہ تھی۔اصل حوالہ پڑھ کر سنایا۔اس کے بعد میں کتاب لے کر ان کی سٹیج پر چڑھ گیا۔اور مولوی محمد علی صاحب اور مولوی عبد القادر صاحب دونوں کو مذکورہ حوالہ دکھایا اور پھر اعلان کیا کہ اگر کسی اور دوست نے بھی دیکھنا ہو تو وہ اصل کتاب سے حوالہ دیکھ سکتا ہے۔بعد ازاں میں اپنی سٹیج پر آ گیا۔اور غیر احمدی مناظر اور صدر کو شرم دلاتے ہوئے کہا کہ اب ان کے لئے مناسب ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اقرار پبلک کے سامنے اسی وقت کریں لیکن وہ شرم کے مارے ایسے بےحس ہو چکے تھے۔گویا ان میں طاقت نطق تھی ہی نہیں۔اس موقع پر خدا کے فضل سے احسن طور پر تبلیغ کا موقع ملا۔اور سلسلہ حقہ کے دشمنوں کو بہت ہی ذلت اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔میں جب بآواز بلند اس تازہ نشان کا اظہار کر رہا تھا تو غیر احمدیوں نے ہمارے اوپر پتھر اور و اینٹیں برسانی شروع کر دیں۔ہماری سٹیج کے پاس ہی ایک معزز سکھ رئیس بطور صدر کے کرسی نشین تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ غیر احمدیوں کی طرف سے مکان کے اوپر سے اینٹیں اور پتھر پھینکے جارہے ہیں تو وہ کھڑے ہو گئے اور اونچی آواز سے کہنے لگے کہ احمدیوں کے لاجواب دلائل کا جواب دینا وہابیوں اور دوسرے غیر احمدیوں کے بس کا روگ نہیں۔جس طرح تم لوگ اینٹ اور پتھر سے احمدیوں کو جواب دے رہے ہو، اس سے سوائے تمہارے علماء کی ذلت اور شکست کے اور کچھ ثابت نہیں ہوتا اور اہل علم کے نزدیک یہ فعل بہت ہی برا ہے اور قصور شہر میں اس سے غیر احمدی علماء ہمیشہ کے لئے بے آبرو ہو گئے ہیں۔میں اب اس جلسہ کو برخاست کرتا ہوں کیونکہ علمی مناظرہ تو ختم ہو چکا ہے۔اب اینٹ اور پتھر ہی باقی رہ گئے ہیں۔اس کے بعد سردار صاحب اٹھ کر میدان مناظرہ سے چلے گئے اور ساتھ ہی دوسرے لوگ بھی منتشر ہو گئے اور ہم احمدی بھی اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے بخیریت اپنی قیام گاہ پر واپس آگئے۔اہلِ حدیث کا وفد ہماری قیام گاہ پر جب ہم اپنی قیام گاہ پر نماز مغرب سے فارغ ہوئے تو علماء اہل حدیث کا ایک وفد جس میں دس بارہ افراد شامل تھے۔مولوی محی الدین صاحب پسر مولوی عبد القادر صاحب وکیل کی قیادت میں