حیات قدسی — Page 13
۱۳ کے نیچے کھڑا ہوں اور مجھے اس کے چاروں طرف کھلے ہوئے دروں میں سے آسمان نظر آرہا ہے۔اس اثنا میں اچانک آسمان پھٹا اور اس میں سے ایک نوجوان اتر کر اسی مکان کی چھت پر آبیٹھا اور مجھے مخاطب کر کے فرمانے لگا کہ نیچے کون ہے میں نے کہا میں غلام رسول ہوں تو اس نے کہا کہ غلام رسول جھولی کر ( یعنی دامن پھیلا ) چنانچہ جب میں نے دامن پھیلایا تو اس نے میرے دامن میں چودس کا چاند ڈال دیا۔میں نے جب اس چاند کو اپنے سینہ سے لگایا تو عجیب بات ہوئی کہ وہ میرے وجود میں سما گیا اس کے بعد جب میں نے اس نوجوان کو دیکھنے کے لئے نگاہ اُٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بے نظیر حسن و جمال کا مجسمہ میرے سامنے کھڑا ہے تب میں نے اس سے دریافت کیا کہ آپ کا اسم شریف کیا ہے تو اس نے جواب میں فرمایا کہ میرا نام جبرائیل ہے اس رویائے صادقہ کی تعبیر بھی مجھے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت راشدہ کے بعد معلوم ہوئی کہ اس چودھویں کے چاند سے مراد فی الاصل چودھویں صدی کے مجد داعظم مسیح محمدی علیہ السلام ہی ہیں۔حضرت سید عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ کی فریادرسی ہمارے جد امجد حضرت خلیفہ عبدالرحیم صاحب علیہ الرحمۃ اور ان کے صاحبزادہ والانبار حضرت میاں نور صاحب چنابی چونکہ قادری طریقہ سے منسلک تھے اس لئے ان کے بعد ہمارے خاندان کی اکثر مقدس ہستیاں اور اہلِ حال بزرگ حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی علیہ الرحمۃ کی تصانیف غنیۃ الطالبین۔فتوح الغیب۔فیض سبحانی۔اسبوع شریف۔درود کبریت احمر وغیرہ کے اوراد و وظائف کو خاص وقعت دیتے تھے۔چنانچہ میں بھی اپنی اکثر روحانی ریاضتوں میں انہی تصانیف کو چراغ راہ سمجھتے ہوئے ان کے وظائف پر کار بند تھا۔عنفوانِ شباب میں جب کہ میری عمر کوئی چودہ پندرہ سال کی ہوگی مجھے اس قسم کے اور اد کی خاص لگن تھی اور میں نے آپ کی بعض دعا ئیں اور درود کبریت احمر زبانی یاد کر رکھے تھے جن کا وظیفہ میں ہر روز بلا ناغہ کیا کرتا تھا۔بلکہ ان کی بعض مرغوب خاطر دعائیں تو میں فی زمانہ بھی اکثر پڑھتا رہتا