حیات قدسی

by Other Authors

Page 9 of 688

حیات قدسی — Page 9

صوم الوصال کے روزے رکھا کرتا اور شام کی نماز کے بعد سورہ یسین۔سورہ ملک۔سورہ مزمل۔در ودا کبر۔درود مستغاث۔درود وصال اور حضرت شیخ عبد القادر صاحب جیلانی علیہ الرحمۃ کے درود کبریت احمر کا وظیفہ بالالتزام کیا کرتا تھا۔علاوہ ازیں موضع گولیکی اور موضع خوجیا نوالی کے درمیان ریگستانی ٹیلوں پر محاسبہ و مراقبہ کی غرض سے جایا کرتا اور گھنٹوں یا دالہی میں تڑپ تڑپ کر روتا اور دعائیں کرتا رہتا تھا۔اس زمانہ میں خلوت گزینی اور صحرانشینی میرا بہت ہی محبوب مشغلہ تھا اور مجھے اس میں انتہائی لطف محسوس ہوتا تھا مگر تاریک ماحول اور بچپن کی عمر کی وجہ سے میں اس وقت کسی کامل انسان کی دستگیری سے محروم تھا۔کیونکہ اس زمانہ میں جس قد ر صوفی اور سجادہ نشین لوگ ہمارے علاقہ میں پائے جاتے تھے ان کے بیشتر مشاغل ہندو جوگیوں کی طرح کشف القبور ، کشف القلوب اور سلب امراض تک محدود تھی۔ایسا ہی اس زمانہ میں چشتی اور نقشبندی خاندانوں کی ریاضتیں بھی تصور شیخ کی مشرکانہ زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھیں۔ایسے حالات میں جبکہ میرے آس پاس کے لوگ صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے تھے میرے لئے یہی چارہ کار تھا کہ خدا وند کریم کی ازلی رحمتیں اور شفقتیں میری دستگیری فرمائیں اور ان فیج اعوج کی گمراہیوں سے مجھے محفوظ رکھیں۔چنانچہ یہ خدا تعالیٰ کا سرا سر فضل و احسان ہے کہ اس نے اپنی مخفی در مخفی حکمتوں کے ماتحت مجھے بچپن ہی سے ایسی راہوں پر چلا یا جو آخر مجھے آستانہ سرمدی پر لانے کا موجب ہوئیں۔ما بداں منزل عالی نتوانیم رسید ہاں مگر لطف شما پیش نہد گامے چند آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دستگیری انہی ایام میں جبکہ میں روز و شب روحانی مجاہدات میں مصروف تھا۔میں نے ایک رات رؤیا میں دیکھا کہ میں ایک شاہراہ پر جنوب سے شمال کی طرف جا رہا ہوں کہ راستہ میں ایک ہند و آنہ شکل کا آدمی سیاہ رنگ کا کتا پکڑے ہوئے کھڑا ہے۔جب میں آگے بڑھنے لگا تو وہ کتا مزاحم ہوا اور وہ شخص مجھے کہنے لگا کہ اگر تم آگے گذرنا چاہتے ہو تو مجھے سجدہ کر کے آگے گذر سکتے ہو۔میں نے کہا کہ سجدہ تو فقط خدا تعالیٰ کی ذات کے لئے ہے اور میں خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کوسجدہ نہیں کر سکتا۔اس پر وہ کہنے لگا اگر تم مجھے سجدہ نہیں کر سکتے تو آگے بھی نہیں گزر سکتے۔چنانچہ اس جواب پر جب میں آگے قدم