حیات قدسی

by Other Authors

Page 8 of 688

حیات قدسی — Page 8

میری پیدائش اور عہد طفولیت میری والدہ ماجدہ کے بیان کے مطابق میں غالبا ۱۸۷۷ ء اور ۱۸۷۹ء کے بین بین بھادوں کے مہینہ میں پیدا ہوا تھا۔میری پیدائش پر میرے بڑے بھائی میاں تاج محمود صاحب نے اصرار کیا کہ اس کا نام غلام رسول رکھا جائے۔چنانچہ والد صاحب محترم نے بھائی صاحب کی خاطر یہی نام تجویز فرما دیا۔حسن اتفاق سے میرے بھائی صاحب مرحوم کا رکھا ہوا یہ نام میری زندگی کے لئے ایک پیشگوئی ثابت ہوا اور واقعی میرے مولا کریم نے مجھے مرسل وقت علیہ السلام کی غلامی سے نواز لیا۔میری والدہ ماجدہ نے بھی میری پیدائش سے پہلے رویا میں دیکھا تھا کہ ہمارے گھر میں ایک چراغ روشن ہوا ہے جس کی روشنی سے تمام گھر جگمگا اٹھا ہے۔طفولیت کے کچھ سال گزارنے کے بعد میرے والد صاحب محترم نے مجھے قرآن مجید پڑھنے کو کے لئے گاؤں کے ایک مکتب میں بٹھا دیا اور اس کے بعد قصبہ مگووال کے پرائمری اسکول میں داخل کر دیا۔یہاں کی تعلیم سے فراغت پانے کے بعد میں قصبہ کنجاہ کے مڈل اسکول میں داخل ہوا مگر ہنوز تعلیم پوری نہ ہوئی تھی کہ میرے بڑے بھائی میاں تاج محمود صاحب کا بعمر ۲۳ سال انتقال ہو گیا۔والد محترم جو پہلے ہی اپنے دو بیٹوں میاں حسام الدین اور میاں نجم الدین کے فوت ہو جانے کی وجہ سے کبیدہ خاطر اور دردمند رہتے تھے ، اس جوان عمر بیٹے کی فوتیدگی پر نہایت غمزدہ ہوئے اور مجھے ارشادفرمایا کہ بیٹا ! اب تم ہمارے پاس ہی رہا کرو۔چنانچہ میں نے اسکول کی پڑھائی چھوڑ دی اور اپنے گاؤں میں ہی میاں محمد الدین صاحب کشمیری کے پاس پڑھنا شروع کر دیا۔چونکہ میاں محمد الدین صاحب سکندر نامہ اور ابوالفضل تک فارسی زبان سے اچھی طرح واقف تھے اس لئے مجھے ان کتابوں کے پڑھنے میں آسانی ہوئی۔اس کے بعد میرے دل میں مثنوی مولانا روم پڑھنے کا اشتیاق پیدا ہوا اور میں والدین سے اجازت حاصل کر کے موضع گولیکی جو ہمارے گاؤں سے تخمیناً چار کوس کے فاصلہ پر واقع ہے مولوی امام الدین صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔مولوی صاحب موصوف نے پہلے تو پڑھانے سے کچھ تامل فرمایا مگر بعد میں یہ کہتے ہوئے کہ آپ بزرگوں کی اولاد ہیں مجھے مثنوی پڑھانے پر رضامند ہو گئے۔تعلیم کے دوران میں آپ ہمارے بعض بزرگوں کی کرامتوں کا ذکر بھی فرمایا کرتے تھے اور بعض اہم امور کے لئے مجھے دعا کی تحریک بھی کیا کرتے تھے۔میں ان دنوں اکثر