حیات قدسی — Page 7
و تدریس اور رات کو یا دالہی میں مصروف رہا کرتے تھے۔حضرت میاں نور صاحب چنابی علیہ الرحمۃ حضرت میاں نورصاحب اپنے والد ماجد حضرت خلیفہ عبد الرحیم صاحب علیہ الرحمۃ کے وصال کے بعد اپنی برادری کے لوگوں کے اصرار پر اپنے وطن مالوف را جیکی تشریف لے آئے اور گرد و نواح کے لوگوں کو اپنے علمی و روحانی فیضان سے شاد کام کرتے رہے۔ہمارے بزرگوں اور اس علاقہ کے عام لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمارے جد امجد کی اولاد میں سے جس قطب کی تکریم کے لئے حضرت محمود صاحب قادری اٹھے تھے وہ قطب میاں نور صاحب ہی ہیں۔بہر حال آپ اپنے زمانہ کے بہت بڑے عالم اور واصل باللہ بزرگ تھے۔آپ نے اس زمانہ میں ایک فارسی کتاب وسیلہ الایمان اور و دوسری اپنے صاحبزادہ حافظ عبد الغفور صاحب کی تعلیم کے لئے قصیدہ آمالی کی عربی شرح تحریر فرمائی ہے تھی۔ان ہر دو کتب کے مطالعہ سے آپ کے فارسی و عربی تبحر کا اندازہ ہو سکتا ہے۔افسوس ہے کہ ہمارے یہ بزرگ سکھوں کی طوائف الملو کی کے زمانہ میں عین نماز پڑھتے ہوئے مسجد میں شہید کر دیئے گئے اور ان کا نادر کتب خانہ بھی جلا دیا گیا۔میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا تھا کہ آپ کی لوح مزار پر جو بالکل سبز رنگ کی معلوم ہوتی ہے، یہ شعرلکھا ہوا ہے۔جہاں اے برادر نہ ماند بکس دل اندر جہاں آفریں بند وبس میرا مقصود یہاں ان بزرگوں اور ان کی اولاد میں سے بعض مستجاب الدعوات لوگوں کی کرامتیں بیان کرنا نہیں ہے۔اس لئے میں فقط اسی پر اکتفاء کرتا ہوں کہ یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل و احسان تھا کہ اس نے میری پیدائش کے لئے ایک ایسا پاکیزہ خاندان انتخاب فرمایا جس کی خدا پرستی اور بے نفسی کی وجہ سے لوگ آج تک اُسے سات پیڑئیے (سات پشتوں والا ) ولیوں کا خاندان کہتے ہیں۔قرآن مجید کے ساتھ تو اس خاندان کو اتنا شغف تھا کہ بعض پشتوں میں اس کے نو نو دس دس حفاظ ایک وقت میں مل جاتے تھے۔پھر اس خاندان کی خواتین میں سے بعض کا یہ دستور العمل چلا آتا تھا کہ وہ ہمیشہ اپنے بچوں کو وضو کر کے دودھ پلایا کرتی تھیں۔ذالک فضل الله يوتيه من يشاء -