حیات قدسی — Page 6
طرح شکار ہو گیا۔اس دوران میں اس کا بیٹا جو ظلم وستم کا انجام چشم خود دیکھ چکا تھا، اپنے باپ کے مرنے کے بعد مسلمان ہو گیا اور حسن تفاول کے طور سے یا فریضہ حج کے ادا کرنے کی وجہ سے حاجی کے نام سے مشہور ہوا دنیا تیرے حوادث پیہم کا شکریہ پہنچا دیا ہے منزل عرفاں کے آس پاس اس کے بعد ہمارا یہ جد بزرگوار اپنے ہندو باپ کے گناہ کی معافی طلب کرنے کے لئے خود حضرت محمود صاحب قادری کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا۔حضرت محمود صاحب نے جب ان کو دیکھا تو اپنی مسند سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ہمارے جد بزرگوار نے عرض کیا کہ حضرت میں تو اپنے باپ کے ظلم وستم کی معافی کے لئے حاضر ہوا ہوں اور آپ میری تعظیم کے لئے کھڑے ہورہے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ میں تیرے لئے کھڑا نہیں ہوا بلکہ تیری پشت میں ایک قطب پیدا ہونے والا ہے اُس کے احترام کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔پھر آپ نے فرمایا کہ تیرے باپ کا قصور اس صورت میں معاف کر سکتا ہوں کہ آئندہ جولڑ کا بھی تمہارے یہاں پیدا ہوا سے میری تحویل میں دے دیا کرو۔چنانچہ وہ اس بات پر رضا مند ہو گئے اور اپنے صاحبزادہ کو ہوش سنبھالنے پر آپ کے سپرد کر آئے۔حضرت محمود صاحب نے حسن تربیت اور حسن تعلیم سے اس بچے کو ایسا با کمال بنا دیا کہ وہ اس وقت لاہور کے صوفیاء وعلماء میں خلیفہ عبدالرحیم کے نام سے مشہور ہوئے۔پھر حضرت محمود صاحب نے خلیفہ عبدالرحیم صاحب سے اپنی صاحبزادی کی شادی کر دی اور آپ ہمیشہ کے لئے لاہور ہی میں اقامت گزیں ہو گئے اور پھر زندگی بھر اپنے آبائی گاؤں راجیکی واپس نہیں آئے اور فوت ہونے کے بعد انہیں اپنے خسر بزرگوار اور پیر طریقت حضرت محمود قادری علیہ الرحمۃ کے پہلو میں انار کلی بازار لاہور کے پیچھے پرانی جی کے بڑ کے درختوں کے نیچے دفن کر دیا گیا حاصل عمر شایدہ یارے کردم شادم از زندگی خویش که کار کردم آپ کے متعلق آپ کے صاحبزادہ والا تبار حضرت محمد سیحی عرف میاں نور صاحب چنابی علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب وسیلہ الایمان کے شروع میں تحریر فرمایا ہے کہ میرے والد ہمیشہ دن کو درس