حیات قدسی — Page 201
۲۰۱ سیدنا مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت سیدنا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ ہیں اور ان چاروں کے قریب عزیزم مکرم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی فصیح و بلیغ عربی میں تقریر کر رہے ہیں۔قطعاً میں نے یہ رویا عزیز موصوف کے مصر جانے سے بہت عرصہ قبل دیکھی تھی اور اس وقت ، خیال نہ تھا کہ ان کے لئے مصر جانے کا موقع پیدا ہوگا۔لیکن بعد میں وہ مصر گئے اور وہاں تبلیغ کا سلسلہ ایک عرصہ تک جاری رکھا اور جب مصر سے واپس مرکز میں آئے تو آپ نے مسجد اقصیٰ میں فصیح و بلیغ عربی میں تقریر فرمائی جس سے سامعین بہت متاثر ہوئے۔میں نے اپنی رؤیا کی اطلاع جناب شیخ ابو تراب یعقوب علی صاحب عرفانی کو دے دی تھی اور عزیزم شیخ محمود احمد صاحب کو بھی۔چنانچہ رویا کے عین مطابق عزیز موصوف کو سیدنا حضرت المصلح الموعود کی نیابت میں آپ کے ارشاد سے تبلیغ کی غرض سے مصر جانے اور وہاں پر عربی زبان کی تحصیل کرنے کا موقع ملا اور یہ ایسا کام تھا جو اللہ تعالیٰ اور سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خوشنودی کا باعث تھا۔فالحمد للہ علی ذالک (۳) میری شدید علالت اور رؤیت الہی سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کے عہد سعادت میں خاکسار ایک وفد میں شامل ہو کر برہمن بڑیہ اور بنگال کے دوسرے علاقوں میں بغرض تبلیغ گیا۔اس وفد میں حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب، حضرت حافظ روشن علی صاحب ، حضرت میر قاسم علی صاحب اور جناب مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی مرحوم بھی شامل تھے۔شب و روز کی محنت اور غذا اور و آب و ہوا کی نا موافقت کی وجہ سے میں شدید طور پر بیمار ہو گیا اور فالج کی علامات کا آغاز ہونے لگا اور مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا سر سے لے کر پاؤں تک میرے بدن کے دو حصے ہیں۔میں نے جب اس حالت کا ذکر سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول سے کیا تو حضور نے انگشت بدنداں ہو کر افسوس کا اظہار فرمایا اور میرے لئے نیچر اسفٹیڈا ، ہیرا ہینگ اور ایسٹن سیرپ استعمال کرنے کا انتظام فرمایا۔اس کے بعد میں اپنے سسرال کے گاؤں پیر کوٹ ضلع گوجرانوالہ میں چلا گیا۔وہاں اپنے برادر نسبتی حکیم محمد حیات صاحب مرحوم کے زیر علاج عرصہ تک رہا لیکن اچھا نہ ہو سکا۔اس دوران میں جب ایک دفعہ میری حالت شدت مرض کی وجہ سے نازک ہو گئی اور