حیات قدسی — Page 202
جمله متعلقین نے مایوسی کے آثار دیکھے تو میری اہلیہ نے جو اس وقت صرف ایک لڑکے اور لڑکی کی والدہ اور بالکل جوان تھیں۔پریشانی اور گھبراہٹ کے عالم میں رقت قلب سے میری صحتیابی کے لئے دعا کی۔ان میں یہ خوبی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور کثرت سے دعا کرنے والی ہیں اور خدا تعالیٰ سے رویائے صادقہ اور الہامی بشارات سے بھی بعض خاص مواقع پر نوازی جاتی ہیں۔چنانچہ اس موقع پر بھی جب انہوں نے نہایت تضرع اور خشوع سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو بشارت دی گئی کہ مولوی صاحب ایک چراغ (دیا) ہیں اگر یہ چراغ بجھ جائیں تو خدا تعالیٰ تمہیں کافی ہوگا۔اس پر میری اہلیہ نے خدا تعالیٰ کے حضور عرض کیا کہ حضور! ہمارے حال پر رحم فرما ئیں اور اس کا چراغ کو بھی جلتا رہنے دیں اور آپ خود بھی ہمارے لئے کافی ہوں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے جواب میں ان کو بشارت دی گئی کہ مولوی صاحب نہیں مریں گے جب تک ان کے ہاں دس بچے پیدا نہ ہو جائیں۔اس الہی بشارت کے مطابق ہمارے ہاں دس بچے ہی پیدا ہوئے اور اس کے بعد اور کوئی اولاد نہ ہوئی۔ایک اور بشارت کا ذکر انہی ایام میں اپنی نازک حالت کے پیش نظر جب میں نے اپنی بیوی اور بچوں کی بیکسی اور بے بسی پر نظر کر کے خاص طور پر دعا کی تو مجھے الہامی کلام میں بشارت دی گئی کہ اپنی بیوی اور بچوں کے متعلق یہ وصیت کر دی جائے کہ اگر میں وفات پا جاؤں اور انہیں کسی قسم کی ضرورت حقہ پیش آئے تو و اس کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور ان ناموں کے ساتھ دعا کر لیا کریں يَا رزاق ، يَا رَحمٰنُ، يَا وَهَابُ اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے ان کی اس ضرورت کو پورا فرما دے گا۔چنانچہ میں نے اپنے اہل وعیال کے لئے اس بارہ میں وصیت کر دی اور ان الہامی ناموں کے ساتھ دعا کرنے کے متعلق میرے دل میں بطور القاء یہ تفہیم ہوئی کہ وہ بیوہ اور یتیم بچے جن کے سر پر مرتیوں کا سایہ نہ رہے۔ان کا ان مبارک ناموں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے حضور تنگی رزق کے دور کرنے کے لئے دعا کرنا اللہ تعالیٰ کو خاص طور پر ان کے لئے متکفل بنا دیتا ہے۔ان تینوں اسماء پر غور کرنے سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ