حیات قدسی

by Other Authors

Page 199 of 688

حیات قدسی — Page 199

۱۹۹ نے بلکہ غیر احمدیوں نے بھی ان تقریروں کو برا منایا اور نفرت کا اظہار کیا اور چونکہ یہ تینوں اصحاب کو صدر انجمن احمد یہ قادیان کے ممبر بھی تھے اور جماعت احمدیہ میں بالعموم اور جماعت لاہور میں بالخصوص خاص و جاہت اور اثر رکھتے تھے اس لئے ان کی طرف سے ایسے عقائد کے اظہار پر جماعت کی عام طور پر بدنامی ہوئی اور غیر احمدیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ احمدی حضرات مسئلہ شفاعت کے قائل نہیں۔اس پر بعض دوستوں نے مجھے تحریک کی کہ میں بھی اسی مسئلہ پر اسلامی نقطہ نگاہ سے روشنی ڈالوں تا کہ وہ غلط اثر جو جماعت کے متعلق قائم ہو رہا ہے اس کا ازالہ ہو اور مسئلہ شفاعت کی اصل حقیقت واضح ہو سکے۔چنانچہ اس کے بعد آئندہ اتوار کو جبکہ تعطیل تھی میری تقریر مسئلہ شفاعت کے موضوع پر رکھی گئی میں نے اپنا مضمون قلمبند کر لیا اور اس کو قرآن کریم ، کتب احادیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روشنی میں تیار کیا۔مضمون مکمل کر کے جب میں رات کو سویا تو رویا میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے اس مضمون کے متعلق بشارت دی گئی ہے اور مجھے الہاماً بتایا گیا کہ تیرا یہ مضمون بشیر اور محمود ہو گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے میرا لیکچر اس رؤیا اور الہام کے مطابق بشارت دینے والا بھی ہوا اور احمدیوں اور غیر احمدیوں نے اس کی تعریف کر کے اس کا محمود ہونا بھی ظاہر کر دیا۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے عملاً بھی مجھ پر مسئلہ شفاعت کا حقیقی راز منکشف فرمایا اور وہ اس طرح کہ مجھے ایک نظارہ دکھایا گیا کہ گویا قیامت قائم ہے اور اللہ تعالیٰ عدالت کی کرسی پر انسانی تمثل میں تشریف فرما ہیں۔اللہ تعالیٰ کی کرسی کے دائیں طرف ایک تخت بچھا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کا منہ جانب جنوب معلوم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کرسی کے سامنے دور تک ایک گذرگاہ ہے۔جس میں کوئی انسان اگر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے لئے آتا ہے تو اس رستہ کی چوڑائی کے کم ہونے کے باعث ایک وقت میں صرف ایک آدمی ہی گذر سکتا ہے۔دو آدمی ایک وقت میں پہلو بہ پہلو اس گذرگاہ میں سے نہیں گذر سکتے۔میں نے دیکھا کہ تخت کے ایک طرف میں کھڑا ہوں اور دوسری طرف خلیفۃ المسیح اول کھڑے ہیں اس اثناء میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ایک ایک شخص