حیات قدسی — Page 198
۱۹۸ فیوض و برکات خاصہ سے اس عبد حقیر کو آٹھ نو دفعہ اللہ تعالیٰ کی روئت مختلف تمثلات میں ہوئی۔☆ روئت باری کا ایک واقعہ حصہ اول کے ص ۳۱ پر درج ہو چکا ہے بعض دوسرے واقعات اختصار کے ساتھ یہاں درج کئے جاتے ہیں۔لاہور میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت کا ایک واقعہ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کے عہد سعادت میں جب خاکسار کو حضور کی طرف سے لاہور میں درس و تدریس، تعلیم اور تبلیغ کی غرض سے مقرر کیا گیا۔تو ان دنوں خواجہ کمال دین صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب جو تینوں صدر انجمن احمدیہ کے ممبر تھے ، مجھ سے قرآن کریم ، کتب احادیث اور بعض اور دینی کتب پڑھا کرتے تھے۔خواجہ صاحب کتاب زاد المعاد فی صدی خیر العباد مصنفہ حضرت امام ابن قیم اور نحو کا رسالہ ضریزی بھی مجھ سے پڑھتے تھے۔علاوہ ازیں جماعت کی طرف سے تبلیغی جلسوں کا انتظام بھی با قاعدہ ہوتا تھا اور بعض اوقات علمی مسائل پر لیکچروں کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔چنانچہ ایک دفعہ مسئلہ شفاعت کی حقیقت پر لیکچروں کا انتظام کیا گیا۔اس موقع پر خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے تقریریں کیں۔ان تینوں اصحاب نے جو لیکچر دیئے ان کو احمدیوں کے علاوہ غیر احمدی اور غیر مسلم لوگوں نے بھی سنا۔ان تینوں لیکچروں کا ماحصل یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ قیامت کے دن گنا ہوگا رلوگوں کو جو دوزخ کی سزا کے مستحق ہوں گے۔اپنی شفاعت کے ذریعہ بخشش دلوا کر ان کو بہشت میں داخل کرا دیں گے۔بلکہ شفاعت کا اصل مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے قرآن اور تعلیم اسلام کو پیش فرمایا۔پس جن لوگوں نے حضور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے قرآن کے کے احکام اور دین اسلام کو قبول کر لیا اور کفر و شرک کو چھوڑ کر مومن اور مسلم ہو گئے۔وہ جنت کے مستحق ہو گئے۔یہی شفاعت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لوگوں کے لئے عمل میں آئی اور ان کو جہنم سے نجات دلانے کا باعث بنی۔جب یہ تینوں لیکچر یکے بعد دیگرے لوگوں کے مسلمہ عقاید کے خلاف ہوئے تو نہ صرف احمد یوں ید کتاب ہذا صفحہ نمبر 27