حیات قدسی — Page 195
۱۹۵ جب ہم وقت مقررہ پر میدان مناظرہ میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مخلوق کا ایک اثر دھام پنڈال میں جمع ہے۔بعض کے اندازہ میں یہ مجمع ۵ ہزار کے قریب تھا اور بعض کے اندازہ میں اس سے بھی زیادہ تھا۔انتظام کے لئے پولیس کے اعلیٰ افسران تک موجود تھے۔مناظرہ کی کارروائی کے لئے پانچ صدر مقرر کئے گئے دو احمدیوں کی طرف سے اور دو غیر احمدیوں کی طرف سے اور پانچواں صد را یک معزز ہندو تھا۔جو شہر کا ریکیس اور آنریری مجسٹریٹ بھی تھا۔وقت مقررہ پر صدر اعظم نے مجھے پرچہ لکھنے کا حکم دیا۔چنانچہ میں نے قلم دوات لے کر پرچ عربی میں لکھنا شروع کیا اور خدا تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے وفات مسیح کی چار پانچ آیتوں کے ساتھ ساتھ صداقت مسیح موعود علیہ السلام کے دلائل بھی لکھ دیئے۔پھر عربی عبارت کا اردو تر جمہ اور مفہوم بھی تحریر کیا۔وقت ختم ہونے پر خاکسار پر چہ کو سنانے کے لئے اٹھا۔کھڑے ہوتے وقت میں نے محسوس کیا کہ کوئی چیز آسمان سے اتری ہے اور میرے وجود اور قومی اور حواس پر مسلط ہو گئی ہے۔وہ روح القدس کی روحانی تجلی کا نزول تھا۔میری آواز زیادہ بلند نہ تھی اور نہ ہی میں خوش الحان تھا۔لیکن اس وقت سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی برکت اور حضرت خلیفۃ المسیح اول کی دعا و توجہ سے مجھے آسمانی تائید حاصل ہوگئی۔میری آواز اس قدر بلند ہوئی کہ سارے مجمع میں آسانی سے سنائی دینے لگی اور مجھے خوش الحانی بھی عطا کی گئی۔یہاں تک کہ مجھے اپنی آواز سے خود لذت اور سرور محسوس ہونے لگا اور مکرم حضرت خلیل احمد صاحب نے جب اس مناظرہ کی روئداد شائع کی تو میری آواز کون داؤدی کے نام سے ذکر کیا۔علماء مخالفین کی ناپسندیدہ حرکات چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے لوگوں پر میرے پر چہ اور اس کے مفہوم اور تشریح کا بہت اثر ہوا۔میں نے ابھی پرچہ کا آٹھواں حصہ ہی پڑھا ہوگا کہ علماء مخالفین نے فتنہ انگیزی شروع کر دی اور شور مچانا شروع کر دیا اور کہنے لگے کہ یہ اپنا اثر ڈال رہا ہے اس کو صرف پر چہ پڑھ کر اس کو ختم کرنا چاہیئے۔ان کی ان بیجا حرکات کو دیکھ کر صدراعظم نے ان کو تقریر کے دوران میں بولنے اور شور وغل ڈالنے سے منع