حیات قدسی — Page 194
۱۹۴ بہر حال اصرار ہی کرنا ہے اور طبعی ترتیب کو ملحوظ نہیں رکھنا تو کم از کم یہ کیا جائے کہ دونوں مناظر بیک وقت عربی میں اپنا اپنا پر چہ لکھیں اور مکمل ہونے پر ایک دوسرے کو تردید کے لئے دیدیں لیکن علمائے مخالفین نے حد درجہ کی ضد دکھائی اور اس کو بھی قبول نہ کیا اور اسی بات پر اصرار کیا کہ پہلے احمدی مناظر عربی میں پر چہ لکھے اور کہا کہ اگر احمدی علماء اس شرط کو نہ مانیں گے تو تمام شہر میں منادی کرا دی جائے گی کہ احمدی لوگ فرار کر گئے۔ان علماء کی اس بد دیانتی اور صریح ضد سے ہمیں بہت ہی تکلیف ہوئی۔چنانچہ ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان حالات میں کیا اقدام اٹھانا چاہیئے۔بعد مشورہ یہ طے ہوا کہ ہمیں یہ شرائط جو علماء مخالفین نے صحیح اصولوں کے خلاف محض بد دیانتی سے پیش کی ہیں مان لینی چاہئے۔تاکہ ان کو جھوٹے طور پر بھی اپنی فتح کا نقارہ بجانے کا موقع نہ مل سکے۔مناظرہ کی صورت میں کم از کم سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام اور آپ کے دعوئی اور اس کے دلائل کے پیش کرنے کا کچھ موقع تو میسر آ جائے گا۔اور ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کے شرائط کے ہوتے ہوئے بھی اعلاء کلمۃ اللہ کی تو فیق عطا فر مادے۔احمدی مناظر کا تقرر اب یہ سوال تھا کہ اگر عربی میں پر چہ لکھنا پڑے تو احمدیوں کی طرف سے کون مناظر پیش ہو۔حضرت حافظ روشن علی صاحب نے بوجہ آنکھوں کی معذوری کے فرمایا کہ میں تو تحریری کام نہیں کر سکتا۔حضرت میر قاسم علی صاحب نے فرمایا کہ میں تو اردو خواں ہوں یا زیادہ سے زیادہ فارسی خواں منشی ہوں۔میں عربی میں مناظرہ کرنے سے معذور ہوں۔اس پر حضرت علامہ مولوی سرور شاہ صاحب فرمانے لگے کہ بے شک میں عربی کا عالم ہوں لیکن مجھے اس طرح عربی میں مضامین لکھنے اور مناظرہ کرنے کی مشق اور مزا دلت نہیں لہذا مجھے بھی معذور سمجھا جائے۔آخر قرعہ فال بنام من دیوانه زدند کے مقولہ کے مطابق قرعہ فال مجھ پر پڑا۔اگر چہ اس خاکسار کوسیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتب کو بار بار پڑھنے سے ان کی برکت سے عربی میں کچھ لکھنے کی مشق ہو گئی تھی اور میں علماء مخالفین کو عربی میں تبلیغی خطوط بھی لکھتا رہتا تھا۔لیکن عربی میں باقاعدہ مناظرہ کرنے کا موقع نہ ملا تھا۔تا ہم اپنے احباب کی تحریک پر میں مناظرہ کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔