حیات قدسی

by Other Authors

Page 196 of 688

حیات قدسی — Page 196

۱۹۶ کیا اور مجھے اپنے بیان کو جاری رکھنے کے لئے کہا۔لیکن جب میں کچھ حصہ اور پڑھ چکا تو پھر ان دو غیر احمدی صدروں نے شور ڈالنا شروع کر دیا اسی طرح دو تین بار میری تقریر کے دوران میں غیر احمدیوں نے بیجا شور و غل مچایا تب صدر اعظم نے بہت ہی رنجیدہ ہو کر کہا کہ اگر غیر احمدی علماء اپنے اس بے جا طریق سے باز نہ آئے تو وہ مناظرہ ختم کر دیں گے اور اپنی صدارت سے مستعفی ہو جائیں گے۔اسی دوران میں احمدی صدر حضرت میر قاسم علی صاحب نے بھی نہایت قابلیت سے نظم و نسق اور پر امن طریق اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی اور غیر احمدی صدر ان کی بے جا باتوں کا قرار واقعی جواب دیا اور شرائط مناظرہ کی پابندی کی طرف توجہ دلاتے رہے۔اس اثنا میں آٹھ نو جوان مجمع میں سے اٹھ کر جن میں سے بعض گریجویٹ اور اچھے تعلیمیافتہ تھے، مجمع میں سے اٹھ کر ہی میری میز کی طرف آگے بڑھے اور جب ان سے آگے بڑھنے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ ان پر احمدیت کی صداقت منکشف ہو گئی ہے اور وہ اپنے احمدی ہونے کا اعلان کرنا چاہتے ہیں۔اس پر حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب امیر وفد نے ان کو وہاں پر اعلان کرنے سے منع کیا اور قیام گاہ پر حاضر ہونے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ وہ قیام گاہ پر آکر مشرف با احمدیت ہوئے اور ان کی درخواست ہائے بیعت کو سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح اول کی خدمت میں بھجوا دیا گیا۔فالحمد للہ علی ذالک اس عظیم الشان کامیابی کے بعد جو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ حقہ کو حاصل ہوئی مجھے اپنے کشف کی تعبیر معلوم ہوئی اور سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول کی طرف سے جو خاص ارشاداس حقیر خادم اور حضرت میر قاسم علی صاحب کو اس موقع پر مونگھیر جانے کا ہوا اس کی حقیقت کا علم ہوا۔اس موقع پر غیر احمدی علماء کی طرف سے میرے مقابلہ کے لئے مولوی عبدالوہاب صاحب پروفیسر عربی کلکتہ کالج جو عربی زبان کے ایک ماہر استاد تھے کو مقرر کیا گیا تھا اور مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے جو ان دنوں وہاں پہنچے ہوئے تھے تمام علماء مخالفین کو یہ بتایا ہوا تھا کہ احمدی مناظر عربی زبان سے بالکل نابلد ہیں اور اس زبان میں تحریری یا زبانی مناظرہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔اس وجہ سے ان کو یقین تھا کہ چونکہ احمدی علماء عربی میں مناظرہ کرنے کے لئے تیار نہ ہوں گے ہماری فتح ہے اور کامیابی کا ڈنکہ بجے گا۔