حیات قدسی

by Other Authors

Page 5 of 688

حیات قدسی — Page 5

خاندانی حالات میرا نام غلام رسول ہے اور میرے والد مرحوم کا نام میاں کرم الدین صاحب اور والدہ مرحومہ کا نام آمنہ بی بی تھا۔میرے گاؤں کا نام راجیکی ہے جو گجرات ( پنجاب ) کے شہر سے تقریبا ۱۴ میل کے فاصلہ پر مغرب کی جانب آباد ہے۔میری قوم ہمارے مورث اعلیٰ بڑا سچ کے نام کی وجہ سے پنجاب اور قندھار وغیرہ علاقوں میں وڑائچ یا بڑا سچ کہلاتی ہے۔ضلع گجرات میں ہماری قوم کے تقریباً پچاسی گاؤں ہیں جو مشرق سے مغرب کی طرف پچاس کوس میں آباد ہیں۔علاوہ ازیں ہماری قوم پنجاب کے اکثر اضلاع میں " اور صوبہ اودھ اور قندھار وغیرہ علاقوں میں بھی بود و باش رکھتی ہے۔چنانچہ صوبہ اودھ کا شہر بڑا نچ اور گجرات کا ٹھیاواڑ کا علاقہ بھڑ وچ اسی قوم کا جنم بھوم خیال کئے جاتے ہیں۔واللہ اعلم بالصواب ہمارے ضلع گجرات کے وڑائچ جیسا کہ ہماری قوم کے تحریری ریکارڈوں، زبانی نسب ناموں کا اور ایک انگریز کی تاریخ سے ظاہر ہے، راجہ جیتو جو بڑا لنچ کی نسل میں سے ایک راجہ تھا ، اس کی اولاد ہیں۔کسی زمانہ میں اس راجہ کے بڑے بیٹے ہری نے گجرات شہر کے قریب ایک گاؤں بسایا تھا اور اس کا نام اپنے نام پر ہریئے والا رکھا تھا۔ایسا ہی اس کے بیٹے مگو نامی نے مگو وال اور پھر اس کے بیٹے راجہ نے موضع را جیکی آباد کیا تھا۔چنانچہ ہمارا خاندان اور راجیکی کے تقریباً تمام زمیندار اسی راجہ کی اولاد ہیں جو راجہ جیتو کے سب سے بڑے بیٹے ہری کا پوتا تھا۔ہمارے جد امجد کے مسلمان ہونے کی تقریب موضع را جیکی میں ایک قادری طریقہ کے صوفی منش بزرگ بود و باش رکھتے تھے۔ان کا نام نامی محمود تھا اور جائوں کی سمرا قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے راجہ صاحب کے پوتے سارنگ نے جو اس وقت گردو نواح میں بڑے دبدبہ کا رئیس تھا، انہیں مار پیٹ کر اپنے گاؤں سے نکال دیا۔چنانچہ وہ بزرگ را جیکی سے لاہور چلے گئے اور وہاں اندرون مستی دروازہ میں رہائش اختیار کر لی۔آخر ان کی مظلومیت رنگ لائی اور ہما راجد سارنگ زمانہ کی آفات کا بُری