حیات قدسی

by Other Authors

Page 193 of 688

حیات قدسی — Page 193

۱۹۳ کی معجزانہ قدرت اور اس کے خارق عادت نشانوں سے ظاہر ہوتا رہتا ہے۔خدا تعالیٰ کے انبیاء اور ان کے خلفاء راشدین کی نرالی شان اور بابرکت تعلق کا اندازہ کرنا عام آدمی کے لئے بہت مشکل ہے ان اسرار کو جو خدا تعالیٰ کو ان کے ساتھ اور ان کو خدا تعالیٰ کے ساتھ ہوتے ہیں وہی جانتے ہیں یا خاص مقربین کو ان اسرار کی کسی قدر جھلک نظر آ جاتی ہے۔حضرت خلیفہ اول کی عظیم الشان کرامت ۱۹۱۲ء میں خاکسار خواجہ کمال الدین صاحب کے ساتھ ایک جلسہ میں شمولیت کے لئے آگرہ گیا ہوا تھا۔اسی اثناء میں سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ وارضاہ کی طرف سے خواجہ صاحب کے نام تار پہنچا کہ خاکسار کو فوری طور پر وہ دہلی پہنچا دیں تاکہ وہاں سے حضرت میر قاسم علی صاحب کی معیت میں میں مونگھر (صوبہ بہار) کے مناظرہ میں شرکت کرسکوں۔اس مناظرہ کے لئے مرکز سے حضرت علامہ مولوی سرور شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت حافظ روشن علی صاحب سیدھے مونگھیر روانہ ہو چکے تھے۔چنانچہ خاکسار حضرت میر صاحب کی معیت میں مونگھیر پہنچا۔دہلی میں حضرت میر صاحب نے حضرت کا خط دکھایا جس میں ارشاد تھا کہ دعا اور استغفار کثرت کے ساتھ کرتے جانا۔چنانچہ خاکسار سفر کے دوران میں دعاؤں اور استغفار میں مشغول رہا۔ابھی ہم دونوں سفر میں مونگھیر سے کچھ فاصلہ پر ہی تھے کہ مجھ پر کشفی حالت طاری ہو گئی میں نے دیکھا کہ میرا ہاتھ یکدم سفید ہو گیا ہے اور میں ایک محل پر چڑھ رہا ہوں پھر وہ حالت بدل گئی۔مونگھیر شہر اسٹیشن پر احباب پیشوائی کے لئے موجود تھے۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ہندوستان کے اطراف و جوانب سے تقریباً ڈیڑھ سو غیر احمدی علماء جمع ہیں۔شرائط مناظرہ جب شرائط مناظرہ طے ہونے لگیں تو غیر احمدی علماء نے محض ضد اور شرارت سے طبعی ترتیب کو چھوڑ کر اس بات پر زور دیا کہ احمدی مناظر پہلے عربی میں وفات مسیح کے دلائل پر پر چہ لکھے اور پھر اس عربی پرچہ کو معہ اردو ترجمہ اور تشریح کے حاضرین کو سنائے اس کے بعد غیر احمدی مناظر اپنا جوابی پر چہ لکھ کر سنائے۔ان کے شدید اصرار پر آخر ہماری طرف سے یہ کہا گیا کہ اگر آپ نے اپنی بات پر