حیات قدسی

by Other Authors

Page 192 of 688

حیات قدسی — Page 192

۱۹۲ زاں بحر علم موج نطق مجرم از فیض و فضل محسنے خود در تحیّرم آں جانِ جاں کہ ہستی من از عدم بساخت در حیرتم کہ چوں معنے معدوم را نواخت عصائے موسیٰ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کے عہد سعادت میں خاکسار ایک تبلیغی وفد میں جمعیت حضرت مفتی محمد صادق صاحب، حضرت حافظ روشن علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم بنارس وغیرہ مقامات میں گیا۔جب وہاں سے ہماری وا پسی ہونے لگی تو کسی دوست نے ایک نہایت خوبصورت عصا مجھے تحفہ دیا۔جب ہم قادیان پہنچے تو حضرت کے حضور حاضر ہوئے اس وقت وہ عصا بھی میرے ہاتھ میں تھا۔سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح اول نے وہ عصا اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ یہ عصا آپ کا ہے میں نے عرض کیا کہ حضور یہ آپ کا ہی ہے۔حضور نے پھر دریافت فرمایا کہ کیا یہ عصا آپ کا ہے؟ پھر میں نے عرض کیا کہ یہ حضور کا ہی ہے کچھ دیر بعد حضور نے تیسری بار فر مایا کہ کیا یہ عصا آپ کا ہے؟ میں نے جوابا پھر پہلے فقرات کو دہرا دیا اور اس خیال سے کہ حضور کو یہ عصا پسند آیا ہے۔میں نے عرض کیا کہ خاکسار کی یہ خوش بختی ہوگی اگر حضور اس کو قبول فرما کر اپنے استعمال میں لائیں۔حضور نے از راہ نوازش اس کو قبول فرمایا اور ان الفاظ میں خاکسار کو دعا دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے عوض میں موسیٰ کا عصا عطا فرمائے۔چنانچہ ان دعا ئیہ الفاظ کی برکات و فیوض کو میں نے مختلف مواقع اور مواطن میں مشاہدہ کیا۔مباحثہ مونگیر (بہار) اللہ تعالیٰ کا اپنے پیاروں اور مقدس نائبین کے ساتھ جو گہرا تعلق ہوتا ہے وہ وقتا فوقتا اللہ تعالیٰ