حیات قدسی — Page 191
191 ایک دھیلہ ( نصف پیسہ ) رکھ کر کہنے لگی کہ جناب ! میں بہت غریب ہوں اور بیوہ ہوں محنت مزدوری کر کے گزارہ کرتی ہوں۔میرے پاس اور تو کچھ نہیں۔صرف ایک دھیلہ ہے جو میں بطور نذرانہ شکر کے پیش کرنا چاہتی ہوں۔اگر چہ آپ کے مقام اور شان کے اعتبار سے یہ باعث شرم و ندامت ہے لیکن میں یہی پیش کر سکتی ہوں آپ اس کو ضر ور قبول فرما ئیں اور رد نہ کریں۔حضور نے فرمایا کہ میں نے فوراً بخوشی اس دھیلہ کو قبول کر لیا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اس نصیحت کو پیش نظر رکھا کہ طبیب کو بلا مانگے اگر کوئی شخص کچھ بھی دے تو وہ رد نہ کرے۔میں دھیلہ کو ہاتھ میں لے کر سوچنے لگا کہ اگر یہ دھیلہ اللہ کی راہ میں دیدوں تو حسب آیت كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِى كُلّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ مجھے سات سو تک دھیلے مل سکتے ہیں اور اگر ان سات سو دھیلوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دوں تو ہر ایک دھیلہ کے عوض سات سو دھیلے اور مل سکیں گے۔اسی طرح میں نے دھیلہ کو پھیلاتے ہوئے ہزاروں روپیہ کی تعداد تک حساب کیا اور مجھے معلوم ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ ایک دھیلہ کو بھی بہت بڑی برکت دے سکتا ہے“۔متواضع مشخص کا بلند مقام یہ ہے شان اللہ والوں کی۔حدیث شریف میں آتا ہے اذا تواضــع الـعـبـد رفـعـه اللـه الى السماء السابعة : یعنی جب کوئی بندہ تواضع اختیار کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کو سا تو میں آسمان تک بلندی عطا فرماتا ہے تواضع کے معنے اللہ تعالیٰ کی عظمت کے احساس سے اس کے غریب سے غریب بندوں سے بھی اچھے اخلاق سے پیش آنا اور خاکساری اور منکسر المزاجی کی عادت کو اختیار کرنا ہے۔کلام قدسی من ذره ام که از خور تاباں درخش من وایں نگہت و شمیم ز گلہائے آں چمن ایں غنچه ام شگفته از فیض نیم اوست این بسطت علوم زلطفِ عمیم اوست