حیات قدسی — Page 120
۱۲۰ اس کے بعد جب میری شادی ہوئی اور میں سخت بیمار ہو گیا تو میری بیوی کو خدا تعالیٰ نے خواب میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ مولوی صاحب دیوے (چراغ ) ہیں اگر یہ بجھ بھی جائیں تو خدا تعالیٰ تمہیں کافی ہو گا۔تب میری بیوی نے خواب میں ہی خدا تعالیٰ سے عرض کیا کہ یہ چراغ بھی روشن رہے اور حضور بھی ہمیں کافی رہیں۔جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر فرمایا کہ جب تک مولوی صاحب کے ہاں دس بچے پیدا نہ ہو لیں یہ فوت نہیں ہوں گے۔چنانچہ اس خواب کے بعد واقعی اللہ تعالیٰ نے دس بچے بھی دیئے اور پھر آج تک ہمیں زندگی بھی عطا فرمائی ہے حالانکہ میری بیوی نے جس زمانہ میں خواب دیکھا تھا اس زمانہ میں ہمارے صرف دو بچے ہی تھے۔مگر اس خواب کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں پانچ لڑکے اور تین لڑکیاں بھی عطا فرمائیں جن میں سے ایک لڑکا حمید احمد اور دولڑ کیاں امتہ العزیز اور مبارکہ تو بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے مگر باقی اولاد خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ موجود ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو دینی و دنیاوی نعمتوں سے بہرہ ور فرمائے اور لمبی عمر میں عطا کرے۔آمین حضرت مولوی جلال الدین صاحب میرے خسر حضرت مولوی جلال الدین صاحب رضی اللہ عنہ اگر چہ میری شادی ہونے سے قبل ہی اس دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے تھے۔مگر اس جسمانی تعلق کی بناء پر جو مجھے آپ سے حاصل ہے میرے لئے ضروری ہے کہ میں آپ کے بعض حالات کے متعلق بھی کچھ عرض کر دوں تا کہ وہ لوگ جو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کرام کے حالات پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں وہ آپ کی شخصیت کے متعلق بھی کچھ واقفیت حاصل کر سکیں۔حضرت مولوی صاحب کھو کھر قوم کے زمیندار تھے اور موضع پیر کوٹ میں تقریباً دوسوا سیکٹر زمین کے مالک تھے۔آپ عربی اور فارسی علوم کے ماہر اور فنِ طبابت میں ایک حاذق طبیب تھے۔پھر ذاتی ہے و جاہت اور حسن اخلاق کی وجہ سے آپ اس تمام علاقہ میں بڑے بارسوخ اور عظیم الشان شخصیت کے مالک تھے۔سب سے بڑی خصوصیت جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی تھی وہ یہ تھی کہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعویٰ مسیحیت سے بھی پہلے کے دوست تھے۔اور حضور کے دعوی کے بعد مخلص ترین صحابہ میں سے تھے۔براہین احمدیہ کی اشاعت کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی اس