حیات قدسی — Page 118
۱۱۸ ہی سمجھتا رہا۔انہی دنوں میں نے لائکپور جانے کا ارادہ کیا تو مولوی غوث محمد صاحب ساکن سعد اللہ پور نے مجھ سے کہا کہ میں اپنے بعض رشتہ داروں کو ملنے کے لئے گوجرانوالہ میں جانا چاہتا ہوں اس لئے دونو پہلے گوجرانوالہ کے ضلع میں چلتے ہیں اور پھر وہاں سے لاسکپو ر ہو آئیں گے۔چنانچہ میں اور مولوی صاحب موصوف سعد اللہ پور سے روانہ ہو کر پہلے موضع زید کے تحصیل حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ پہنچے اور رات وہیں احمدی احباب کے پاس گزاری اور صبح حافظ آباد کے ارادہ سے چل پڑے۔راستہ سے کچھ فاصلہ پر جب موضع پیر کوٹ ثانی نظر آیا تو مولوی صاحب موصوف نے کہا کہ اس موضع میں بھی احمد یہ جماعت موجود ہے۔اگر آپ پسند کریں تو انہیں بھی مل آئیں۔میں نے کہا مجھے تو کسی کا تعارف حاصل نہیں ہے اس لئے آپ جا کر مل آئیے اور میں اس درخت کے نیچے بیٹھ کر آپ کا انتظار کرتا ہوں۔چنانچہ مولوی صاحب جب موضع مذکور میں پہنچے تو اتفاق سے اس روز حضرت مولوی جلال الدین صاحب رضی اللہ عنہ کے چھوٹے صاحبزادے میاں عبدالرحمن کی شادی کی تقریب تھی۔جس کی وجہ سے گردو نواح کے احمدی احباب وہاں کثرت سے جمع تھے۔مولوی غوث محمد صاحب نے جب اس مجمع میں میر اذ کر کیا کہ وہ گاؤں سے کچھ فاصلہ پر ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں تو تمام احمدی احباب اسی وقت دوڑتے ہوئے میرے پاس پہنچے اور مجھے اپنے ساتھ گاؤں لے گئے۔رات ہم نے وہاں ہی گزاری۔دوسرے دن پھر وہاں کے دوستوں نے ہمیں مجبور کیا کہ ابھی آپ یہاں ہی ٹھیر ہیں۔چنانچہ دوسرے دن پھر ان کی خواہش پر ہم وہیں رہ پڑے۔تیسرے دن حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ کے بڑے صاحبزادہ حکیم محمد حیات صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کی والدہ ماجدہ کو عرق النساء کی وجہ سے بہت تکلیف ہے اور یہ بھی کہا کہ آپ ان کے لئے دعا بھی کریں اور دم بھی کر دیں۔چنانچہ میں نے اسی وقت ان کی والدہ ماجدہ کے لئے دعا کی اور آخری سورتیں اور ربّ كُلّ شئ خادمک ربِ فاحفظنی و انصرنی و ارحمنی پڑھ کر دم بھی کیا۔جس کے نتیجہ میں خدا کے فضل سے ان کی والدہ کو اسی وقت آرام ہو گیا۔رات کو حکیم صاحب موصوف نے خواب میں دیکھا کہ ان کے گھر میں اچانک ایک بہت بڑا چراغ روشن ہوا ہے جس کے متعلق ایک فرشتہ نے بتایا کہ یہ چراغ مولوی غلام رسول ہیں جو تمہارے گھر میں آئے ہوئے ہیں۔صبح حکیم