حیات قدسی

by Other Authors

Page 117 of 688

حیات قدسی — Page 117

شخص کے ساتھ موضع بیت روانہ ہو گیا۔جس وقت ہم موضع مذکور میں پہنچے تو وہاں کے ایک میاں ناصر الدین نے والد صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ میری لڑکی جوان ہو چکی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس کی شادی آپ کے اس صاحبزادہ سے کردوں۔والد صاحب نے اس کی درخواست منظور کر لی۔مگر کچھ عرصہ کے بعد جب شادی کی تیاری شروع ہوئی تو میں نے دعا شروع کر دی کہ اے خدا اگر یہ رشتہ میرے لئے بہتر ہے تو ہو جائے ورنہ مجھے اس کے ابتلاء سے بچالے۔خدا کی حکمت ہے کہ میری شادی میں ابھی چند دن ہی باقی تھے کہ اچانک موضع بہت سے اطلاع آئی کہ لڑکی فوت ہو گئی ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے اس ابتلاء سے بھی بچالیا۔اس کے بعد موضع خوجیا نوالی میں میرے والد صاحب کی پھوپھی کی پوتی کے ساتھ میرے شادی کی تجویز کی گئی مگر یہ رشتہ بھی ہمارے گھر کے بعض افراد کی ناپسندیدگی کی وجہ سے ہوتے ہوتے رک گیا۔اور اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ہمارے انہی رشتہ داروں میں سے ایک نو جوان لڑکا فوت ہو گیا تو اس کی ماتم پرسی کے لئے میری والدہ ماجدہ اور میرے بڑے بھائی میاں شرف الدین صاحب ان کے یہاں گئے۔اس موقع پر چہ اور اگر چه میری والدہ ماجدہ نے وہی لنگی اور زیور پہنے ہوئے تھے جو وہ اپنے گھر پر ہمیشہ پہنا کرتی تھیں۔ا مگر جب ان عورتوں نے ان کے لباس وغیرہ کو دیکھا تو اس موقع کی نزاکت کے لحاظ سے اسے بہت برا منایا اور آپس میں چہ میگوئیاں شروع کر دیں۔میری والدہ ماجدہ اور بڑے بھائی کو اس وقت تو ان کا کی ان باتوں کا علم نہ ہوا مگر جب یہ اپنے گاؤں واپس لوٹے تو اڑتے اڑتے یہ باتیں ان کے کانوں کے میں بھی پہنچیں۔جنہیں سن کر میرے بھائی صاحب نے بہت برا منایا اور اسی وقت ان رشتہ داروں کو کے یہاں پیغام بھیج دیا کہ تم لوگوں نے چونکہ ہماری ہتک کی ہے اس لئے اب ہم غلام رسول کا رشتہ تمہارے ہاں کرنے کے لئے ہر گز تیار نہیں۔خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس لڑکی کی شادی بھی آخر ایک اور جگہ ہوگئی مگر ابھی دو اڑھائی سال ہی گزرے تھے کہ یہ لڑکی بھی فوت ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے میری دعاؤں کے ذریعہ مجھے اس ابتلاء سے بھی بچالیا۔اس دوران میں اگر چہ مجھے کئی مرتبہ خواب میں دکھایا جاتا کہ میری شادی دریائے چناب کے اس پار ہوئی ہے اور میری برات میرے ساتھ ہے اور میں شادی پر جا رہا ہوں اور یہ بھی بتایا گیا کہ میری شادی ایک ایسی لڑکی سے ہوئی ہے جس کا نام صاحبزادی ہے مگر میں ان خوابوں کی تعبیر کچھ اور