حیات قدسی

by Other Authors

Page 94 of 688

حیات قدسی — Page 94

۹۴ اعجاز احمدیت سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد مبارک میں مجھے تبلیغی سلسلہ میں ایک گاؤں جانا پڑا تو وہاں ایک نوجوان عورت جو شادی شدہ تھی مجھے ملی اور میرے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ میں نے جب سے آپ کو دیکھا ہے اور آپ کی باتیں سنی ہیں بس یہی جی چاہتا ہے کہ ایک منٹ کے لئے بھی آپ سے جدا نہ ہوں۔میں نے اسے سمجھایا کہ ایسی محبت تو اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء کے لئے ہونی چاہیئے۔ان کے سوا کسی اور سے مناسب نہیں ہے۔اس پر وہ عورت رو پڑی اور کہنے لگی تب میں کیا کروں۔میں نے کہا نمازوں میں دعا کرو اور کثرت سے لاحول ولا قوة إلا بالله پڑھتی رہا کرو اور یہ دعا بھی کرو کہ اے اللہ تعالیٰ ! تیرے بغیر جس چیز کی محبت میرے دل میں سب سے زیادہ ہے ایسی محبت مجھے اپنے متعلق عطا کر اور میرے دل سے غیر اللہ کے خیال کو مٹا دے۔اور میں بھی انشاء اللہ تمہارے لئے دعا کروں گا۔چنانچہ اس کے بعد جب میں قادیان گیا تو وہاں قیام کے دوران میں میں نے اس کے لئے دعا کی۔پھر جب واپس آیا تو خدا کے فضل سے میں نے اس عورت کے کو اس باطل خیال سے صحت یاب پایا الحمد للہ۔ان باتوں کے ذکر سے میرا مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے مجھے اس زمانہ میں بھی گمراہیوں سے محفوظ رکھا جبکہ میں بالکل عنفوان شباب میں تھا اور میرا ماحول اپنی آبائی وجاہت اور بزرگوں کی وجہ سے ایسے اسباب کے لئے مد تھا۔الحمد للہ علی ذالک ہاتھی کی تعبیر غالبًا ۱۳۲۳ ہجری کا واقعہ ہے کہ میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہِ اقدس میں قادیان میں حاضر ہوا۔ان دنوں مہمان خانہ میں میرے علاوہ اور بھی بہت سے یارانِ طریقت اترے ہوئے تھے۔جن میں سے ایک حضرت منشی محمد خاں صاحب کپور تھلوی رضی اللہ عنہ کے خلف الرشید خان صاحب عبدالمجید خاں صاحب بھی تھے۔آپ چند روز کی ملاقات کے بعد مجھے کہنے لگے آپ بھی میرے ساتھ چلیں۔میں نے معذرت کی کہ حضور اقدس علیہ السلام کی اجازت کے بغیر میں باہر نہیں جا سکتا تو آپ نے کہا میں ابھی حضور اقدس علیہ السلام سے آپ کو ساتھ لے جانے کے لئے اجازت لے لیتا ہوں