حیات قدسی

by Other Authors

Page 95 of 688

حیات قدسی — Page 95

۹۵ 66 پھر تو آپ کو کوئی عذر نہیں ہوگا۔چنانچہ آپ نے اسی وقت ایک معروضہ حضور کی خدمت میں لکھا تو حضور علیہ السلام نے جواباً فرمایا ”ہاں اگر وہ جانا چاہیں تو میری طرف سے اجازت ہے۔جب حضور کی طرف سے یہ جواب آیا تو میں ان کے ساتھ کپورتھلہ جانے پر رضامند ہو گیا۔جب ہم کپورتھلہ پہنچے تو یہاں کے مخلص صحابہ کرام میں سے منشی اروڑے خاں صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب اور بعض دیگر احباب نے مجھ سے قرآن مجید کا درس سننے کی فرمائش کی اور میں تقریباً چھ ماہ تک اسی کارِ خیر میں وہاں مشغول رہا۔اس دوران میں ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ہاتھی کے نیچے آ گیا ہوں جس کی وجہ سے مجھے بیحد پریشانی ہوئی اور میں خواب سے بیدار ہو کر اس ابتلاء سے بچنے کی دعائیں مانگتا رہا۔اتفاقاً اسی روز صبح کے آٹھ نو بجے کے قریب عبدالمجید خاں صاحب جو ان دنوں مہاراجہ کپورتھلہ کے بگھی خانہ کے افسر بھی تھے میرے پاس آئے اور کہنے لگے شہر کے پاس ہی ایک برساتی ندی میں بارش کی وجہ سے بہت سیلاب آیا ہے اس لئے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ وہاں چل کر اس سیلاب کا نظارہ کیا جائے۔میں نے دو ہاتھیوں کا انتظام بھی کر لیا ہے آپ بھی تیار ہو جا ئیں اور ہمارے ساتھ چلیں۔میں نے جب ان کی یہ بات سنی تو رات کی خواب کے پیش نظر ان کے ساتھ جانے سے انکار کیا مگر با وجود میری اس خواب کے سنانے اور انکار کرنے کے ان کا اصرار اسی طرح قائم رہا۔یہاں تک کہ سب دوستوں کی متفقہ رائے سے آخر میں ان کے ساتھ جانے پر مجبور ہو گیا اور ہم تمام دوست کا ہاتھیوں پر سوار ہو کر ندی پر پہنچ گئے۔وہاں جاتے ہی جب ہم نے دیکھا تو واقعی وہ ندی دریا کی طرح ٹھاٹھیں مار رہی تھی اور پل کے اوپر سے ایک نوجوان ملاح چھلانگیں مار کر نہا رہا تھا۔پہلے اس نے پل کے پہلے در سے چھلانگ لگائی پھر دوسرے سے پھر تیسرے سے اور کنارے پر نکل آیا۔اس وقت بعض کے دوستوں نے مجھے کہا کہ آپ بھی دریائے چناب کے پاس رہنے والے ہیں آپ بھی کوئی تیرا کی کافن دکھا ئیں۔میں نے کہا کہ مجھے تیرنے کی اتنی مشق تو نہیں البتہ جس در سے اب اس ملاح نے چھلانگ لگائی ہے میں انشاء اللہ اس سے اگلے در سے کود کر آپ کو دکھلاؤں گا۔چنانچہ میں نے اس وقت تہبند کی لنگوٹ کس کر پل کے اوپر سے چوتھے در پر سے چھلانگ لگائی اور تیرتے ہوئے کنارے پر آ گیا۔جب احباب نے اس طوفان کے مقابل میں میری یہ جرات و ہمت دیکھی تو حیران رہ گئے اور سب نے اس ملاح کو کہا کہ اب آپ دونو پانچویں در سے چھلانگ لگا ئیں میں نے کہا میں تو تیار ہوں آپ اس ملاح کو