حیاتِ نور — Page 770
240 کے مسلمانوں میں ایک عالم متبحر وجید فاضل تھے۔کلام اللہ سے جو آپ کو عشق تھا وہ غالباً بہت کم عالموں کو ہو گا۔اور جس طرح آپ نے عمر کا آخری حصہ احمدی جماعت پر صرف قرآن مجید کے حقائق و معارف آشکارا فرمانے میں گذارا۔بہت کم عالم اپنے حلقہ میں ایسا کرتے ہوئے پائے گئے۔حکمت میں آپ کو خاص دستگاہ تھی۔اسلام کے متعلق آپ نے نہایت تحقیق و تدقیق سے کئی کتابیں لکھیں اور معترضین کو دندان شکن جواب دیئے۔بہر حال آپ کی وفات مرزائی جماعت کے لئے ایک صدمہ عظیم اور عام طور پر اہل اسلام کے لئے بھی کچھ کم افسوسناک نہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کو غریق رحمت کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔۹ - اخبار وکیل“ لکھتا ہے: مرحوم فرقہ احمدیہ کے ممتاز ترین رکن اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے جانشین تھے۔آپ کے علم وفضل کا ہر شخص معترف تھا اور ان کے علم اور بردباری کا عام شہرہ تھا۔ان کی روحانی عظمت و تقدس کے خود مرزا صاحب بھی قائل تھے۔“ ۱۰- کرزن گزٹ“ لکھتا ہے: حکیم صاحب سے ہمیں ذاتی تعارف حاصل تھا۔ذاتی تعارف ہی نہیں بلکہ ایک عرصہ تک ہم اور حکیم صاحب جموں میں ایک ساتھ رہے ہیں۔یہاں تک تعلق بڑھا ہوا تھا کہ حکیم صاحب شام کا کھانا ہر روز آندھی آئے یا مینہہ ہمارے مکان پر آکے کھایا کرتے تھے۔مغرب کی اور عشاء کی نماز ہم ان کے ساتھ پڑھتے تھے۔طبیعت میں مذاق بہت تھا۔نیک دل اور مخیر تھے۔صورت و شکل وجہ تھی۔رنگت گندمی تھی۔قد لمبا تھا۔داڑھی اس قدر گھنی تھی کہ آنکھوں کے حلقوں تک داڑھی کے بال پہنچے ہوئے تھے۔جموں میں ان کے تحت مدر سے اور شفا خانے تھے جن کا انتظام وہ نہایت عمدگی اور نیک نیتی سے کرتے تھے۔اس وقت حکیم فدا محمد خاں صاحب مرحوم مہاراجہ رنبیر سنگھ کے طبیب خاص تھے۔اس عہدے میں گویا حکیم نور الدین صاحب ان کی ماتحتی میں کام کیا کرتے تھے۔حکیم صاحب موصوف کو دوسو یا اڑھائی سوروپے کی تنخواہ ملتی تھی بعد ازاں مستقل ـور