حیاتِ نور

by Other Authors

Page 769 of 831

حیاتِ نور — Page 769

۷۶۴ تھے۔اور ان کی زندگی اسلام کے پاک نمونہ پر بسر ہوئی۔وہ صرف پیشوا نہیں تھے بلکہ اعلیٰ درجہ کے طبیب بھی تھے اور اعلیٰ درجہ کی کتابوں کے فراہم کرنے اور خلق اللہ کو فائدہ پہنچانے کا خاص ذوق تھا۔“ ۵- بھارت اخبار لکھتا ہے: " آپ درویش منش اور منکسر المزاج خلیق اور ملنسار تھے۔عالم با کمال اور طبیب بے مثال تھے۔مذہب کا آپ کو اتنا کیا خیال تھا۔کہ ایام عدالت میں بھی قرآن شریف کے ترجمے میں گہری دلچسپی لیتے رہے۔" - اخبار ” آفتاب“ لکھتا ہے ، احمدی جماعت کے خلیفہ المسح مولوی حکیم نور الدین صاحب نے جو ایک متجر عالم اور جید فاضل تھے کئی مہینے کی مسلسل علالت کے بعد جمعتہ المبارک کے دن ٹھیک پونے دو بجے اس دار فانی سے عالم جاودانی کو کوچ کیا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ہمیں اپنے احمدی دوستوں سے اس قومی و مذہبی صدمہ میں دلی ہمدردی ہے اور ہماری دعا ہے کہ خداوند کریم انہیں صبر عطا فرما دے۔اے ے۔اخبار وطن“ لکھتا ہے: " << مولوی صاحب کیا بلحاظ طبابت و حذاقت اور کیا بلحاظ سیاحت علم و فضیلت و علمیت ایک برگزیدہ بزرگوار تھے۔علم سے ان کو عشق تھا اور فراہمی کتب کا خاص شوق۔ان کا پیدائشی وطن بھیرہ ضلع شاہ پور ہے مگر عمر کا بڑا حصہ باہر گزارا۔اور آخری حصہ قادیان میں۔“ میونسپل گزٹ“ لکھتا ہے: I co نہایت رنج اور افسوس کے ساتھ لکھا جاتا ہے کہ مولوی حکیم نور الدین صاحب خلیفہ مرزائی جماعت کا کئی ہفتہ کی مسلسل اور سخت علالت کے بعد آخر ۱۳ مارچ کو بوقت ۲ بجے شام قادیان میں انتقال ہو گیا۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔مرحوم جیسا کہ زمانہ واقف ہے ایک بے بدل عالم اور زھد واتقا کے لحاظ سے مرزائی جماعت کے لئے تو واقعی ایک پاکباز ستودہ صفات خلیفہ تھے۔لیکن اگر ان کے مرزائیانہ مذہبی عقائد کو نظر انداز کر کے دیکھا جائے تو بھی وہ ہندوستان