حیاتِ نور — Page 771
ات نور 2YY اعلیٰ طبیب ہو گئے تھے اور آپ کو چھ سو سے سات سو تک اخیر دم تک تنخواہ ملتی رہی۔آپ تعجب سے سنیں گے کہ اس تنخواہ کا بڑا حصہ نہایت سیر چشمی اور فیاضی سے طلباء پر آپ خرچ کر دیا کرتے تھے۔بہت سے طلباء آپ کے ساتھ رہتے تھے۔نہ صرف ان کی تعلیم کے آپ کفیل تھے بلکہ کھانا کپڑا بھی بڑی فراخی سے انہیں دیا کرتے تھے۔آپ نے اپنی عمر میں صدہا بے خانماں اور غریب طلباء کو پرورش بھی کیا اور پڑھا بھی دیا۔شیخ عبداللہ صاحب پلیڈ رعلیگڑھ اور ایڈیٹر رسالہ خاتون آپ ہی کے پروردہ اور مسلمان کئے ہوئے ہیں۔شیخ صاحب پہلے کشمیری پنڈت تھے۔حکیم صاحب نے انہیں مسلمان بھی کیا اور پڑھایا لکھایا بھی۔یہاں تک کہ علیگڑھ کی تعلیم کا خرچ بھی آپ برابر اٹھاتے رہے۔غرض یہ ہے کہ طبیعت میں ایثار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔آپ کی زندگی کے دو ہی بڑے بڑے مذاق تھے۔ایک طلباء کی پرورش اور تعلیم ، دوسرے نادر الوجود کتابوں کا جمع کرنا۔بس اسی میں آپ کی تنخواہ صرف ہو جاتی تھی۔آپ بہت ہی منکسر المزاج اور خلیق تھے۔ساتھ ہی ہر ایک کام سچائی اور راستبازی سے کرتے تھے۔آپ سے آپ کے عملہ کے آدمی بہت خوش تھے۔کبھی کسی کو آپ سے وجہ شکایت پیدا نہیں ہوئی۔آپ کی دینی علوم کی مہارت اور عربی قابلیت مسلم تھی۔آپ اپنے عہدہ کے فرائض کی ادائیگی کے بعد طلباء کو بخاری و مسلم کا سبق بھی دیا کرتے تھے۔آپ کی واقفیت مذہبی بہت بڑھی ہوئی تھی۔۱۲ ا۔اخبار طبیب دہلی رقمطراز ہے: افسوس کہ ہندوستان کے ایک مشہور معروف طبیب مولوی حاجی حکیم نور الدین صاحب جو علوم دینیہ کے بھی متبحر عالم باعمل تھے اور جماعت احمدیہ کے محترم پیشوا۔کچھ عرصہ عوارض ضعف پیری میں مبتلا رہ کر آخر جمعه گذشته کو قریباً اسی سال کی عمر پا کر رحلت فرما گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔حکیم صاحب مغفور بلا لحاظ احمدی و غیر احمدی یا مسلم یا غیر مسلم سب کے ساتھ شفقت علی خلق اللہ کا ایک اعلیٰ نمونہ تھے۔آپ کے طریق علاج میں یہ چند باتیں خصوصیت سے قابل ذکر ہیں: