حیاتِ نور — Page 59
ور ۵۹ خوشی کی کوئی انتہاء نہ رہی۔اب رہ گئی صرف ایک آیت ! سو اللہ تعالیٰ نے ایک معمولی سی کتاب کے مطالعہ کے دوران میں وہ بھی سمجھا دی اور اسی طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے مسئلہ ناسخ و منسوخ حل ہو ۵۵ قاضی شہر کی حالت حضرت خلیفۃ اصبح الاول نے مدینہ منورہ کے اس زمانہ کے بعض ساکنین کے قابل افسوس حالات کا بھی ذکر فرمایا ہے۔مگر قلت گنجائش کی وجہ سے یہاں ہم صرف قاضی شہر کی حالت سنانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: ایک ہمارے دوست تھے۔انہوں نے وہاں ایک عظیم الشان سرائے لوگوں کے آرام کے لئے بنانی تجویز کی اور بہت سا روپیہ اس پر خرچ کیا۔وہاں کے قاضی صاحب نے سو پونڈ اُن سے قرض مانگے۔انہوں نے ہمارے پیر ومرشد شاہ عبدالغنی صاحب سے مشورہ لیا۔انہوں نے فرمایا کہ قرض وغیرہ نہیں۔یہ تو قاضی صاحب تم سے لیتے ہیں پھر وہ تم کو واپس نہ دیں گے۔آخر انہوں نے انکار کیا۔دوسرے ہی دن دار القضاء سے حکمنامہ آیا کہ جہاں تم سرائے بناتے ہو یہاں ایک کو چہ نافذہ تھا اور نافذہ کو چہ کا بند کرنا حدیث سے منع ہے۔اس لئے سرائے کا بنانا بند کیا جائے۔چونکہ ان کے ہزاروں روپے خرچ ہو چکے تھے۔بہت گھبرائے۔آخر ایک بزرگ نے (جن کو میں جانتا ہوں ) صلاح دی کہ تم جدہ چلے جاؤ اور انگریزی کنسل سے جا کر لو۔چنانچہ ہماے دوست وہاں گئے اور تمام حالات انگریزی کنسل سے بیان کئے۔اس نے قاضی صاحب کے نام ایک چٹھی لکھ دی۔وہ چٹھی قاضی صاحب کے پاس پہنچی۔تو اگلے ہی روز دار القضاء سے حکم پہنچا کہ چونکہ پتہ چلا ہے کہ کوچہ نافذہ کی آمد ورفت رک گئی ہے اور جبکہ آمد رفت رکی ہوئی ہے۔تو اب وہ کو چہ نافذہ کے حکم میں نہیں رہا۔لہذا سرائے بنانے کی اجازت دی جاتی ہے“۔۵۶ انماز با جماعت رہ جانے پر قلبی کیفیت جن دنوں آپ حضرت شاہ عبدالغنی " سے تعلیم پارہے تھے۔ایک روز ظہر کی نماز جماعت سے