حیاتِ نور — Page 60
اب اول ۶۰ آپ کو نہ مل سکی۔اس کا آپ کو اس قدر رنج اور قلق ہوا کہ آپ نے خیال کیا کہ یہ اتنا بڑا کبیرہ گناہ ہے کہ قابل بخشش ہی نہیں۔ور خوف کے مارے آپ کا رنگ زرد پڑ گیا۔مسجد کے اندر داخل ہونے سے بھی ڈر محسوس ہونے لگا۔وہاں ایک باب الرحمت ہے۔اس پر لکھا ہوا تھا کہ یا عِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوا عَلَى أنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رُحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرحیم۔اس تسلی آمیز آیت کو پڑھنے کے بعد بھی آپ ڈرتے ہوئے اور حیرت زدہ ہو کر گھبراہٹ کی حالت میں مسجد کے اندر داخل ہوئے۔منبر نبوی اور حجرہ شریف کے درمیان نماز شروع کی۔رکوع میں پہنچے تو بڑے زور سے یہ خیال دل میں پیدا ہوا کہ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ مابین بینی و منبرى روضة من رياض الجنة اور جنت تو وہ مقام ہے۔جہاں جو التجا کی جاتی ہے وہ مل جاتی۔ہے۔پس آپ نے دعا کی کہ انہی ! میرا یہ قصور معاف کر دیا جائے“۔۵۷ مکہ معظمہ میں دوسری مرتبہ مسافروں اور بڈوؤں میں لڑائی کیوں ہوتی ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ سُنتا تھا کہ مسافروں اور بدوؤں میں لڑائی ہو جاتی ہے۔اس پر جو میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس کی دو وجوہ ہیں: اول یہ کہ بدد ہندوستانی نہیں سمجھتے اور ہندوستانی عربی نہیں جانتے۔ایک دوسرے کی بات نہ سمجھنے کی وجہ سے دونوں تیز ہو جاتے ہیں۔دوسری وجہ آپ کے نزدیک لڑائی کی یہ ہوتی تھی کہ عربوں کے دستور کے مطابق کھانا کھاتے وقت اگر کوئی دوسرا شخص آ کر ساتھ شامل ہو جائے تو اسے روکا نہیں جاتا۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سب بھوکے رہتے ہیں اور بھو کا آدمی ویسے ہی جلد برافروختہ اور غضبناک ہو جاتا ہے۔۵۸ آپ کا بیان ہے کہ چونکہ میری جوانی تھی اور چوہیں پچھپیں سال کا سن تھا اور قومی مضبوط تھے۔صرف کھجور رکھ لیا کرتا تھا۔اور پھر وہی کھا کر پانی یا دودھ پی لیا کرتا تھا۔اسی طرح فرمایا: