حیاتِ نور

by Other Authors

Page 58 of 831

حیاتِ نور — Page 58

اب اول QA ساتِ تُـ منسوخ آیات کی فہرست سے اُسے خارج کر دیا۔لہذا جن پانچ آیات کے بارہ میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے لکھا ہے کہ یہ منسوخ ہیں، اُن کا حل بھی اگر تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو یقینا نکل آئے گا۔چنانچہ آپ نے ان پر غور کرنا شروع فرمایا اور کچھ عرصہ کے بعد پانچوں آیات کا حل ز آیا۔نکل آل تفصيل فصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی کے ابتدائی ایام میں آپ کو بعض اسباب کی بناء پر مسجد چینیاں والی میں جانا پڑا۔ان ایام میں جماعت احمدیہ کے دوست غیر احمدی امام کی اقتداء میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔اور امتناعی حکم ابھی نازل نہیں ہوا تھا۔آپ مسجد پہنچ کر مغرب کی نماز کے لئے وضو فرما رہے تھے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے بھائی میاں علی احمد نے کہا کہ جب عمل قرآن مجید وحدیث پر ہوتا ہے تو تاریخ منسوخ کیا بات ہے آپ نے فرمایا کچھ نہیں۔اس نے اپنے بھائی یعنی مولوی محمد حسین صاحب سے ذکر کر دیا۔مولوی صاحب ان ایام میں مسجد چینیاں والی میں امام مقرر تھے۔انہوں نے نماز سے فارغ ہوتے ہی آپ سے مخاطب ہو کر متکبرانہ لہجہ میں کہا۔ادھر آؤ ! تم نے میرے بھائی کو کہہ دیا کہ قرآن میں تاریخ و منسوخ نہیں۔آپ نے فرمایا۔ہاں! میں نے کہا ہے۔اس پر بڑے جوش سے بولے کہ تم نے ابو مسلم اصفہانی کی کتاب پڑھی ہے وہ احمق بھی قائل نہ تھا۔آپ نے فرمایا " پھر تو ہم دو ہو گئے۔پھر انہوں نے کہا کہ سید احد کو جانتے ہو۔مراد آباد میں صدر الصدور ہے۔فرمایا نہیں! کہا کہ وہ بھی قائل نہیں۔ان کی یہ بات سنکر آپ نے فرمایا۔بہت اچھا پھر تو ہم تین ہو گئے۔مولوی صاحب نے کہا۔امام شوکانی نے لکھا ہے کہ جو نسخ کا قائل نہیں ، وہ بدعتی ہے لہذا تم سب بدعتی ہو۔آپ فرماتے ہیں، اس کے بعد میں نے کہا: ،، میں ناسخ و منسوخ کا ایک آسان فیصلہ آپ کو بتاتا ہوں۔تم کوئی آیت پڑھ دو، جو منسوخ ہو۔(اس کے ساتھ ہی آپ کے دل میں خیال آیا کہ اگر یہ ان پانچ آیتوں میں سے کوئی پڑھ دے تو پھر کیا بنے گا ؟ ) اس نے ایک آیت پڑھی۔میں نے کہا کہ فلاں کتاب نے جس کے تم قائل ہو۔اس کا جواب دیا ہے۔کہنے لگا ہاں۔پھر میں نے کہا اور پڑھو۔تو خاموش ہی ہو گیا۔اس واقعہ کے بعد بھیرہ کے ایک شخص کے سوال پر آپ نے تفسیر کبیر رازی میں یہ تفصیل ان مقامات کا مطالعہ کیا تو پانچ آیات میں سے تین آیات کا حل نکل آیا۔اس کے بعد ریل گاڑی میں بیٹھے ہوئے آپ ایک کتاب کا مطالعہ فرما رہے تھے کہ ایک آیت کا حل آپ کو معلوم ہو گیا۔پھر تو آپ کی