حیاتِ نور — Page 768
الراحمین مولوی حکیم نورالدین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے عقیدتمندوں اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔۲۔کشمیر میگزین “ لکھتا ہے: نہایت رنج و افسوس سے لکھا جاتا ہے کہ حکیم حافظ حاجی مولوی نور الدین صاحب جو بلحاظ عقائدہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ اسح ، بلحاظ علم و فضل مسلمانوں کے مایہ ناز اور بلحاظ ہمدردی عوام انسانیت کے لئے مایہ افتخار تھے کچھ عرصہ کی علالت کے بعد ۱۳ مارچ کو بعد دو پہر دو بجے قادیان میں انتقال فرما گئے ہیں۔مولوی نورالدین صاحب کی وفات پر احمدی اخبارات کے علاوہ تمام اسلامی اخبارات نے باوجود ان کے مذہبی عقائد سے اختلاف رکھنے کے نہایت رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ مولوی نورالدین جیسا قابل فرزند ہندوستان کے مسلمانوں میں ایک عرصہ کے بعد پیدا ہو سکے گا۔“ کے ۳- اخبار مسافر آگرہ " لکھتا ہے: کو اصولاً ہمارے اور ان کے خیالات میں اتنا ہی فرق تھا جتنا قطب جنوبی و قطب شمالی کے درمیان ہے لیکن پھر بھی یہ نہ کہنا دیانت کا خون کرنا ہوگا کہ وہ راسخ الاعتقاد ایماندارو نیک آدمی تھے۔علاوہ ازیں ہم جانتے ہیں کہ ان کے دل میں اشاعت اسلام کا بڑا درد اور قرآن شریف کے پڑھنے پڑھانے سے خاص محبت تھی اور وہ مرنے سے چند یوم پہلے تک برابر دونوں کام سر انجام دیتے سے رہے۔“ ۴- اخبار مشرق رقمطراز ہے احمدی سلسلہ میں یہ خلیفتہ المسیح اور عام طور پر مسمانوں میں اپنے تجر علمی اور زہد و اتقا کی خوبیوں سے نہایت محترم اور اسلام کے محاسن اور ان کی اشاعت میں کوشاں تھے۔ان کی زندگی میں ہزار ہا ایسے موقعے آئے کہ ان کی آزمائش ہوئی اور انہوں نے صداقت کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔اللہ تعالیٰ نے جو فضل و کرم اور ثمرہ اعتماد و صبر انہیں بخشا تھا۔اس کی تفصیل سوانح عمری میں پائی جاتی ہے جس سے دل پر نقش ہوتا ہے کہ وہ ایک بچے خدا پرست اور پکے موحد