حیاتِ نور

by Other Authors

Page 765 of 831

حیاتِ نور — Page 765

ات نُ ـور 64 حاجی حافظ مولنا مولوی نور الدین رضی اللہ عنہ ۱۳ مارچ بروز جمعه ۲ - جگر ۲۰ منٹ پر عین نماز میں اس دنیائے فانی سے رخصت ہو کر اپنے محبوب حقیقی سے جا ملا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اور ۱۴ مارچ کو بعد نماز عصر آپ کی نعش مبارک مقبرہ بہشتی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے داہنے ہاتھ دفن کی گئی۔اس مقدس وجود کا ایثار اس کی زندگی اس کے موت اس کے اعمال اس کے اقوال اس کا تجربہ اس کا تبحر علمی اپنی نظیر آپ تھے۔زمانہ ایسے وجود روز پیدا نہیں کرتا۔آسمان ایسے مزکی نفوس کو آئے دن زمین پر نہیں بھیجتا۔دنیا ایسے منبع فیوض وعلوم سے ہر وقت متمتع نہیں ہوا کرتی۔آواز مین ایک عالم سے مسلمان ایک ہادی سے احمد ہی اپنے پیشوا اپنے آقا اپنے مطاع اپنے مقدس امام کے وجود باجود سے محروم ہو گئے۔وہ قرآن کا خادم قرآن کا استاد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شیدا حدیث کا والا اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔فرقہ ذکور گریاں ہے کہ ہائے وہ بوڑھا تجربہ کار قرآن سنانے والا کہ ومہ امیر وغریب کا خیر خواہ ہمارے درمیان سے اٹھ گیا۔فرقہ انات میں شور و بکا ہے کہ آہ! وہ عورت کی عزت کر نیوالا وہ کمزوروں کا حامی وہ " حقوق انسان کا موید و نگهبان اس دار فانی سے عالم جاودانی کو سدھار گیا۔یہ آسمانی انسان زمین پر رہتا تھا۔لیکن اس کا تعلق آسمان سے ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں ٹو شتا تھا۔اس کو چلتے پھرتے لیٹتے بیٹھتے ہر گھڑی خدا اور اس کے رسول کی یاد و محبت کا زندگی بخش جام سرشار رکھے رہتا تھا۔خدا کی کتاب اس کی محبوب اس کا ذکر اس کی غذا تھی۔قرآن کی آیات میں اسے دلر باخد و خال نظر آتے اور اس کتاب کے معانی میں اسے چشمیر حیوان کے حیات جاوید بخشنے والے پانیوں کا ذخیرہ معلوم ہوتا تھا۔اس کی زندگی ہی قرآن تھی۔اور جب اس کی عمر طبعی کا پیمانہ لبریز ہونے کو تھا تو خدائے حی و قیوم کے ہاں سے بھی ختم قرآن کی مبارک آگئی اور ذات باری و محمد نے فرمایا: خلیفہ المسح کوختم قران مبارک ہو یہ حضرت خلیفہ مسیح اول کا الہام نہیں بلکہ سید عابد علی شاہ صاحب کا الہام تھا جو انہوں نے حضور کوسنایا۔