حیاتِ نور — Page 764
حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وفات حسرت آیات پر احمدی اخبارات و رسالہ جات کی آراء ا۔جناب اسسٹنٹ ایڈیٹر صاحب الفضل“ نے لکھا: آخر وہ دن آن پہنچا کہ جس دن کا تصور کر کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے تھے۔دل دھڑکتا تھا اور روح کانپ جاتی تھی۔یعنی ہمارے امیر خدا تعالیٰ کے مسیح کے خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے کئی ہفتے کی مسلسل علالت کے بعد ۳۱ مارچ سوا دو بجے حالت نماز میں وصال پایا۔اللہ تعالیٰ ان کی روح پرفتوح پر لاکھوں رحمتیں نازل فرمائے اور انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے جوار میں جگہ دے۔اللہم آمین دنیا ایسے متبرک و مقدس انسان کو یاد کرے گی جس کے احسانات نہ صرف علمی و طبی عالم پر ہیں بلکہ مذہبی ولایت میں بھی وہ ایک خاص درجہ رکھتا ہے اور احمدیہ جماعت میں تو کوئی فرد بشر ایسا نہیں کہ جو اس کے فیوض سے متمتع نہ ہوا ہو۔آپ کا عہد خلافت جماعت کے لئے نہایت مبارک اور گونا گوں ترقیات کا گذرا۔اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی خاص تائید اور نصرت فرمائی جب کبھی فتنے نے سراٹھایا تو اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ اس کا وعدہ اپنے مقرر کردہ خلفاء کے ساتھ ہے خوف کو امن میں بدل کر تسکین بخشی۔فالحمد لله رب العالمین ۳ ۲- ایڈیٹر صاحب ریویو آف ریلیچر نے لکھا: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ( قرآن کریم ) خدا تعالیٰ کی رضا کے ماتحت اس کے قدیم قانون اور سنت کے مطابق اللہ کا پیارا محمد رسول اللہ کا محبوب عمر کا فرزند مسیح موعود کا جانشین، صدیق ثانی سیدنا ــور