حیاتِ نور

by Other Authors

Page 766 of 831

حیاتِ نور — Page 766

وہ خضر تھا۔اس نے کئی ایک سکندر صفت طالبان حق کو آبحیات پلایا اور کسی سے تا دم مرگ بھل نہیں کیا۔اس کا ایثار اس کا جود اس کا کرم اس کی خدا پرستی، غریب نوازی اور احسان اپنی نظیر آپ تھے۔وہ سب کا خیر خواہ تھا۔وہ عظیم الاحسان اور ہر دلعزیز تھا۔اس کی سخاوت یا اس کا فیض کسی ایک ملت کے افراد تک محدود نہ تھا بلکہ عام مخلوق خدا تک وسیع تھا۔اللہ تعالی ہمارے اس آقائے مغفور کو غریق رحمت کرے اور آپ کے پس ماندگان کو صبر جمیل عنایت کر کے دنیاو آخرت میں اپنے فضل و کرم کا مورد کرئے ان کی اولاد پھلے پھولے اور خدام دین ہو۔کا کیا آمین ثم آمین۔" -۳- حضرت مفتی محمد صادق صاحب جو ایک لمبا عرصہ اخبار "بدر" کے ایڈیٹر رہے۔حضرت خلیفہ امسح الاول رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھتے ہیں: " حضرت حاجی حافظ مولوی حکیم نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ رشتہ میں مرے خالو تھے اور میرے استاد تھے۔دین بھی جو کچھ میں نے سیکھا ان سے ہی مجھے ملا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دستر خوان پر بھی میں انہی کا طفیلی ہوں۔حضرت مرحوم کی محبت انسان کو نور ایمان اور یقین و عرفان سے مالا مال کرتی تھی۔آپ کا فیضان عام تھا۔مسلم ہندو سکھے پاری سب پر آپ کے احسانات تھے اور سب آپ کے مداح تھے۔لیکن دینی معاملات میں آپ ایسے غیور تھے کہ بڑے بڑے مہاراجوں اور نوابوں کے دربار میں مذاہب کے ہوتی تو آپ بلا خوف و خطر دوسرے مذاہب پر اسلام کی فضیلت اور سب مصلحین پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فوقیت اس عمدگی سے بیان کرتے کہ سب کو سر تسلیم خم کرنا پڑتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ آپ کی محبت و اخلاص ایک قابل رشک نمونہ تھا۔حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ کے ساتھ ان کے بچپن میں ہی ایسی محبت اور شفقت کرتے اور اس قدر تعظیم کرتے تھے گویا ان کی فراست صحیحہ یقین کر چکی تھی کہ یہ وجود آئندہ مصلح موعود اور جانشین مسیح موعود اور رہبر مسلمانان عالم ہو نیوالا تھا۔آپ ہمیشہ روزانہ قرآن شریف کا درس دیتے تھے جس میں ایک رکوع کا ترجمہ اور تفسیر بیان ور