حیاتِ نور — Page 748
کے فرمایا کہ اتِ تُـ ۷۴۳ جو امانت حضرت خلیفہ اسیح نے میرے سپرد کی تھی۔اس کو میں نے پہنچا دیا ہے۔اب اس کے مطابق انتخاب کرنا آپ لوگوں کا کام ہے"۔حضرت نواب صاحب یہ بات کہہ کر ابھی بیٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ میاں صاحب، میاں صاحب ، حضرت میاں صاحب کی آوازیں بلند ہونی شروع ہو گئیں۔ابھی یہ آوازیں بلند ہو ہی رہی تھیں کہ حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے یہ کہا کہ میں وہ شخص ہوں کہ میری نسبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ان دو فرشتوں میں سے جن کے کندھوں پر مسیح کا نازل ہونا حدیثوں میں آیا ہے۔ایک فرشتہ یہ (خاکسار) ہے۔میں صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب کو ہر طرح اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ بیعت لیں اور ان کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ وہ ہماری بیعت کو قبول فرما دیں۔حضرت مولوی عبد المغنی خانصاحب کا بیان ہے کہ میں بھی سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے قریب ہی بیٹھا ہوا تھا۔میں نے دیکھا اور آج بھی وہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ حضرت قاضی امیر حسین صاحب مرحوم جو سجدہ نور کے اندرا گلی صفوں میں سے کسی صف میں بیٹھے تھے۔انتخاب سے پہلے بالکل بے تابانہ اور از خود وارنگی کے عالم میں حضرت کے پاس آئے اور ایک درد بھرے لہجہ میں عرض کیا: حضور ! میری بیعت تو آپ لے لیں"۔مگر حضرت بدستور خاموش بیٹھے رہے کچھ نہ فرمایا۔اس پر قاضی صاحب مرحوم بھی ادب سے خاموش بیٹھ گئے اور اصرار نہ کیا۔20 حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی فرماتے ہیں: "مولانا سید محمد احسن صاحب کی تقریر کے فورا بعد ہی ایک طرف جناب مولوی محمد علی صاحب اور دوسری طرف سید میر حامد شاہ صاحب کھڑے ہو گئے۔دونوں کچھ کہنا چاہتے تھے مگر سید صاحب چاہتے تھے کہ پہلے وہ اپنا عند یہ بیان کریں