حیاتِ نور

by Other Authors

Page 749 of 831

حیاتِ نور — Page 749

۷۴۴ اور مولوی صاحب اپنے خیالات پہلے سنانا چاہتے تھے۔چنانچہ دونوں بزرگوں میں باہم ردو کہ ہوتی رہی۔سید صاحب مولوی صاحب سے اور مولوی صاحب سید صاحب سے صبر اور انتظار کرنے کی درخواستیں کرتے رہے۔وہ کہتے مجھے کچھ کچھ لینے دیں اور وہ فرماتے۔مجھے پہلے عرض کر لینے دیں۔اس طرح ایک مجادلہ کی صورت بن گئی۔لوگ گھبراچکے تھے۔صبر و برداشت کی تاب ان میں باقی نہ تھی۔جھگڑے اور مجادلے سننے کو وہ جمع نہ ہوئے تھے۔دلوں کی بے چینی اور اضطراب کو بھانپ کر حاضرین کی ترجمانی کرتے ہوئے اور خلق خدا کی گویا زبان ہی بن کر حضرت عرفانی کبیر نے جرات کی اور پکار کر عرض کیا کہ ان جھگڑوں میں یہ قیمتی وقت ضائع نہیں ہونا چاہئے۔ہمارے آقا حضور ! ہماری بیعت قبول فرما دیں۔لوگ بھرے بیٹھے تھے۔بے اختیار لبیک لبیک کہتے ہوئے بڑھنے اور ایک دوسرے پر گرنے لگے۔قریب والوں کو ہاتھ میں ہاتھ دینے کا شرف ملا اور دور والوں نے بچھڑیاں ڈال دیں اور آن کی آن میں واعتصموا بحبل الله جميعاً کا منظر سامنے آ گیا۔مخالف خیال گنتی کے چند اصحاب لوگوں کو لتاڑتے اور روند تے ہوئے مسجد سے نکل گئے۔کسی نے ان سے تعرض کیا نہ گستاخی۔لوگ دیوانہ وار پروانوں کی طرح شمع خلافت و ہدایت کے گرد گرے پڑتے تھے۔دیر تک کوئی آواز اٹھی نہ الفاظ۔ایک خاموشی وسکوت طاری رہا۔دھکوں کی وجہ سے لوگ حضرت کے قریب بیٹھنے والوں کے اوپر گرے ہوئے تھے اور قرب پانے والے لذت دسرور کے بوجھ تلے دبے ہوئے۔عزیزم مکرم مولوی عبید اللہ صاحب شہید کا ہاتھ پہلے دست خلافت پر پہنچا اور دوسرا اس عزت و شرف سے مشرف ہونے والا ہاتھ حضرت مولانا مولوی سید سرور شاہ صاحب کا تھا۔جن کے بعد ایک دوسرے پر اور دوسرا تیسرے پر یوں پڑے۔جیسے موسلا دھار بارش کے قطرات مقطر گفتی رہی نہ امتیاز۔حتی کہ حضرت نواب صاحب جیسی عظیم المرتبت اور واجب الاحترام ہستی بھی اس دھکم دھکا سے محفوظ نہ رہ سکی۔حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ