حیاتِ نور — Page 747
۷۴۲ پھر حضرت ممدوح کی بیعت خلافت ہو چکنے کے بعد اخبار بدر کے پرچہ مذکورہ بالا میں ہی جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے بحیثیت سکرٹری انجمن احمد یہ اس بارہ میں حسب ذیل اعلان شائع کیا تھا: حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا جنازہ قادیان میں پڑھا جانے کے بعد آپ کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق جناب حکیم مولوی نور الدین صاحب سلمہ کو آپ کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔یہ خط بطور اطلاع کل سلسلہ کے ممبران کو لکھا جاتا ہے کہ وہ اس خط کے پڑھنے کے بعد فی الفور حضرت حکیم الامتة خليفة لمسح والمہدی کی خدمت بابرکت میں بذات خود یا بذریعہ تحریر حاضر ہو کر بیعت کریں۔اب کوئی نئی وصیت تو ان کے ہاتھ میں آئی نہ تھی۔کہ جس کی بنا پر وہ خلافت کو نا جائز سمجھنے لگے تھے۔پس حق یہی ہے کہ ان کو خیال تھا کہ خلافت کے لئے جماعت کی نظر کسی اور شخص پر پڑ رہی ہے۔” جب فیصلہ سے مایوسی ہوئی تو میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ چونکہ ہمارے نزد یک خلیفہ ہونا ضروری ہے اور آپ کے نزدیک خلیفہ کی ضرورت نہیں اور یہ ایک مذہبی امر ہے۔اس لئے آپ کی جو مرضی ہو کریں۔ہم لوگ جو خلافت کے قائل ہیں اپنے طور پر اکٹھے ہو کر اس امر کے متعلق مشورہ کر کے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں۔یہ کہہ کر میں اٹھ کھڑا ہوا۔اور مجلس برخواست ہوئی۔انتخاب خلافت ۱۴ / مارچ ۴۱۹۱۴ وہاں سے اٹھ کر آپ سیدھے اپنے ساتھیوں سمیت مسجد نور میں تشریف لے آئے۔جہاں ڈیڑھ دو ہزار آدمی آپ کے انتظار میں بیٹھے تھے۔پہلے نماز عصر پڑھی گئی۔اس کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الاول کے وصی حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ نے اس بھری مجلس میں آپ کی وہ وصیت پڑھ کر سنائی۔جو آپ نے ۱۴ مارچ ۱۹۱۷ء کو بموجودگی قریب سو افراد کے جن میں حضرت صاحبزادہ میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب ، مولوی محمد علی صاحب، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور حضرت میاں معراج الدین عمر صاحب بھی شامل تھے، اپنے قلم سے لکھ کر حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے حوالہ بطور امانت کی تھی۔وصیت سنانے کے بعد حضرت نواب صاحب نے قوم کو مخاطب کر