حیاتِ نور

by Other Authors

Page 738 of 831

حیاتِ نور — Page 738

ور ۷۳۳ ناراض ہونے کا خطرہ ہو۔لیکن جیسا کہ ہم اس کتاب میں متعدد بار یہ لکھ آئے ہیں۔مولوی صاحب موصوف اور ان کے ہم خیال ساتھیوں نے یہ سارا جھگڑ ا صرف جماعت میں حصول اقتدار کیلئے کھڑا کیا تھا۔انہوں نے جب یہ دیکھا کہ جماعت ہم میں سے کسی شخص کو بھی خلیفہ بنانے کے لئے تیار نہیں ہوگی تو انہوں نے خلافت و انجمن کا فتنہ بر پا کردیا۔اور جب اس میں بھی انہیں کھلی شکست نظر آئی کیونکہ حضرت خليفة أمسیح الاول نے اپنی پر زور جلائی تقریر میں اس امر کومبر من فرما دیا تھا کہ انجمن خلیفہ پر کبھی بھی حاکم نہیں ہو سکتی وہ ہمیشہ محکوم ہی رہے گی بلکہ اپنی وفات سے قبل اپنے جانشین کے بارہ میں وصیت بھی کر دی تو انہوں نے اس وصیت میں سے ایک فقرہ کو غلط مفہوم پہنا کر یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ حضور نے چونکہ فرمایا ہے کہ میرا جانشین ہر دلعزیز ہونا چاہئے اور ہر دلعزیز وہ نہیں ہو سکتا جو غیر احمد یوں کو کافر کہے لہذا ہم حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو خلیفہ ماننے کے لئے تیار نہیں۔حالانکہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کے نزدیک ہر دلعزیزی کا ہرگز یہ مفہوم نہیں تھا کہ آنے والے خلیفہ کو غیر احمدیوں میں ہر دلعزیز ہونا چاہئے۔باقی رہ گیا مسئلہ کفر و اسلام کا۔سو جیسا کہ ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں یہ مسئلہ حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی خدمت میں متعدد بار پیش ہوا۔اور اس کا فیصلہ نہایت وضاحت کے ساتھ ہو چکا ہے۔اس جگہ ہم ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب پٹیالوی کے ایک خط کا اقتباس اور اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جواب درج کئے دیتے ہیں۔ڈاکٹر عبد الحکیم صاحب پٹیالوی کا ایک خط اس وقت میں چند امور کی طرف جو نہایت ضروری ہیں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اول یہ کہ امت محمدیہ میں جو لوگ ہماری تکذیب کرتے اور ہمیں صریحا کافر کہتے ہیں، ان کے ساتھ تو بے شک نماز نہیں ہو سکتی مگر جو لوگ نہیں صریحا کافر نہیں کہتے۔ان کو کافر نہ سمجھا جاوے بلکہ حسن ظنی سے کام لیا جائے اور ان کے ساتھ نمازیں پڑھنے کی اجازت دی جائے تا کہ ہماری تبلیغ آسان اور وسیع ہو " سکے۔دوم یہ کہ جو تحریر انشراح صدر اور عالی ظرفی سے موادی محمد علی اور خواجہ کمال الدین صاحب نے شائع کی تھی کہ ریویو آف ریلیجنز میں عام اسلامی مضامین