حیاتِ نور

by Other Authors

Page 737 of 831

حیاتِ نور — Page 737

۷۳۲ ـور اسی مسئلہ کی آڑ لے کر جماعت میں خطرناک اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی اور حضرت خلیفہ اول نے اس بارہ میں اپنا مذہب غیر مبہم الفاظ میں بیان کر دیا جسے ہم گذشتہ صفحات میں کسی جگہ درج کر چکے ہیں۔جماعت کی اکثریت اس مسئلہ کی حقیقت کو سمجھ گئی۔لیکن مولوی محمد علی صاحب اور ان کے چند رفقاء حکم و عدل کی واضح تشریح اور خلیفہ اول کے مذہب کے برعکس جماعت میں اس مسئلہ کے متعلق وسوسہ اندازی کرتے ہی چلے گئے۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات اور حضرت خلیفہ اول کے بیانات کو سمجھنے سے قاصر تھے۔وہ سمجھتے تھے اور خوب سمجھتے تھے شاید دوسروں سے بھی زیادہ سمجھتے تھے لیکن اس بات کا کیا علاج کہ محکم و عدل کی تشریح اور خلیفہ اول کے مذہب کا سچا اور واقعی بر ملا اور کھلم کھلا اظہار ان کی ہر دلعزیزی کی صفت کے حصول میں ایک زبر دست روک اور آہنی دیوار تھا۔اس روک کو دور کرنے اور اس اہنی دیوار کو توڑنے کے لئے انہوں نے ہر جائز و نا جائز حربہ کا استعمال کر نا روا رکھا تا کہ کسی نہ کسی طرح وہ غیر احمدی احباب میں ہر دلعزیز ہو جائیں۔اب ہم حضرت خلیفتہ المسح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وصیت کے لفظ ہر دلعزیز پر اس نکتہ نگاہ سے غور کرتے ہیں کہ حضور کا اپنے جانشین کے متعلق یہ فرمانا کہ وہ ہر دلعزیز ہو۔کیا اس سے حضور کی یہ مراد تھی کہ وہ احمد ہوں۔غیر احمدیوں اور غیر مسلموں تمام اقوام میں ہر دلعزیز ہو۔یقینا حضور کا یہ مطلب نہیں تھا بلکہ حضور کی مراد صرف یہ تھی کہ اُن کا جانشین احمد یوں میں ہر دل عزیز ہو۔کیونکہ ساری اقوام میں تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ہر دلعزیز نہ تھے۔چہ جائیکہ ان کا کوئی جانشین ایسا ہر دلعزیز ہو۔لیکن جناب مولوی محمد علی صاحب کے محولہ بالا فقر : سے صاف عیاں ہے کہ ان کے نزدیک حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مراد اس لفظ سے حضور کے جانشین کا غیر احمدی مسلمانوں میں ہی ہر دلعزیز ہونا ہے۔کیونکہ وہ اس کے ہر دلعزیز ہونے کو اس شرط کے ساتھ مشروط کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کی تکفیر کرنے والا نہ ہو۔اپنے اس فقرہ میں کہ ہاں میں بلا کسی ڈر کے یہ کہوں گا کہ مسلمانوں کی تکفیر کرنے والے تقویٰ سے الگ راہ پر قدم مارتے ہیں اور ہر دلعزیزی کی صفت بھی انہیں حاصل نہیں ہو سکتی، جناب مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت غیر مبائعین لاہور نے واضح طور پر اس امر کا اعتراف کر لیا ہے کہ وہ یہ چاہتے تھے کہ جماعت ایسے اختلافی مسائل کو خیر باد کہہ دے جن سے غیر احمدیوں کے